حسین شاہ: غنڈوں سے بچاؤ کے لیے باکسنگ سیکھنے سے اولمپک میں میڈل جیتنے تک کا سفر

حسین شاہ

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کے علاقے لیاری میں واقع کمہار واڑہ کے ایک چھ سال کے لڑکے کو اس کے چچا نے باکسنگ کلب صرف اس خیال سے بھیجا کہ وہ باکسنگ سیکھ کر علاقے کے آوارہ لڑکوں کی غنڈہ گردی سے اپنا دفاع کر سکے۔

لیکن کسے خبر تھی کہ اپنے دفاع کے لیے باکسنگ سیکھنے والا یہ لڑکا مستقبل میں پاکستان کا نہ صرف سب سے کامیاب باکسر بنے گا بلکہ اولمپکس میں بھی تمغہ جیت کر تاریخ رقم کرے گا۔

حسین شاہ پاکستان کی اولمپک تاریخ میں تمغہ جیتنے والے واحد باکسر ہیں۔ اُنھوں نے سنہ 1988 میں جنوبی کوریا کے شہر سیئول میں ہونے والے اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

یہ اولمپکس میں ہاکی کے علاوہ کسی دوسرے کھیل میں پاکستان کا محض دوسرا تمغہ ہے۔ سنہ 1960 کے روم اولمپکس میں پاکستانی پہلوان محمد بشیر نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

کھانے کو پیسے نہیں، پیر میں جوتے نہیں

حسین شاہ نے اپنی زندگی میں بہت سختیاں جھیلی ہیں۔

اُنھوں نے غربت میں آنکھ کھولی اور جب ہوش سنبھالا تو غربت کے ساتھ ساتھ لیاری کی ʹمنفی شہرتʹ بھی ان کا امتحان لینے کے لیے موجود تھی لیکن اُنھوں نے اپنے لیے جو راستہ منتخب کیا وہ اندھیروں میں گم ہونے کے بجائے روشنی دکھا رہا تھا۔

کم عمری میں پہننے والے باکسنگ گلووز ان کے حوصلے میں اضافہ کرتے گئے۔

حسین شاہ بی بی سی اُردو کو بتاتے ہیں ʹمیری زندگی میں سنہ 1984 بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس سال مجھے باکسنگ کی بنیاد پر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) نے کنٹریکٹ پر ملازمت دی۔‘

حسین شاہ

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

،تصویر کا کیپشناولمپک مقابلے کے دوران

’اسی سال میں قومی باکسنگ چیمپیئن شپ کھیلنے فیصل آباد گیا تو میرے پاس باکسنگ مقابلوں میں استعمال ہونے والے جوتے تک نہیں تھے۔

’میں نے فائنل میں سلور میڈلسٹ آرمی کے فضل حسین کو شکست دی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پنچ مار کر اُنھیں گرایا تو میں خود یہ سوچ کر حیران رہ گیا کہ کیا میرے اندر اتنی طاقت ہے۔‘

’وہاں پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر پروفیسر انور چوہدری موجود تھے۔ اُنھوں نے میری باکسنگ دیکھ کر مجھے فوراً ٹریننگ کیمپ میں بلانے کی ہدایت کر دی۔ یہ میرے کریئر کا ٹرننگ پوائنٹ تھا جو میرے قومی اور بین الاقوامی کریئر کی شروعات کا سبب بنا۔‘

حسین شاہ کہتے ہیں ʹمیں نے 1984 میں نیپال میں منعقدہ پہلے سیف گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فائنل میں انڈین باکسر کشن کمار کو شکست دی تو اس وقت بھی میرے ساتھ یہی صورتحال تھی کہ باکسنگ کے جوتے نہیں تھے اور مجھے ننگے پیر یہ مقابلہ کرنا پڑا تھا۔‘

جب میں ایشیئن چیمپیئن بنا

حسین شاہ کہتے ہیں ʹمیں نے 1987 میں کویت میں ہونے والی ایشیئن باکسنگ چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا۔ میری یہی کارکردگی مجھے سیئول اولمپکس میں لے جانے کا سبب بنی کیونکہ اس زمانے میں کوالیفائنگ مقابلوں کا سلسلہ نہیں ہوا کرتا تھا۔‘

حسین شاہ بتاتے ہیں ’اس زمانے میں سال بھر باکسنگ کا کیمپ لگا رہتا تھا اور پروفیسر انور چوہدری اس میں خود دلچسپی لیا کرتے تھے۔ کیوبا کے صدر کاسترو سے ان کی دوستی کی وجہ سے کیوبن کوچز باقاعدگی سے پاکستان آتے تھے۔ میری ٹریننگ میں بھی کیوبن کوچ کا بڑا ہاتھ تھا۔ پروفیسر صاحب نے سنہ 1986 میں مجھے اور ابرار حسین کو تین ماہ کی ٹریننگ کے لیے مشرقی جرمنی بھیجا تھا۔‘

حسین شاہ

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

،تصویر کا کیپشنننگے پاؤں سیف گیمز میں مقابلہ کرتے ہوئے

’کہا کہ تمغہ جیتوں گا تو سب نے مذاق اڑایا‘

حسین شاہ کہتے ہیں ʹمیں اپنی دھن میں سخت ٹریننگ کر رہا تھا اور میرے ذہن میں صرف یہی بات ہوا کرتی تھی کہ جس ایونٹ میں جاؤں اس میں تمغہ جیتوں۔ میں سیف گیمز ایشیئن چیمپیئن شپ اور پریذیڈنٹ کپ میں تمغے جیت رہا تھا لہٰذا جب میں کیمپ میں اپنے ساتھی باکسرز سے کہتا کہ میں اولمپکس میں بھی میڈل جیت کر آؤں گا تو سب مجھ پر ہنستے تھے۔ صرف ہمارے کیوبن کوچ جولین میری بات کو سنجیدگی سے سُنتے تھے۔ اُنھیں پتہ تھا کہ میں کچھ کر سکتا ہوں۔ اس شخص نے مجھ پر بہت محنت کی تھی۔‘

اور پھر وہ وقت آ گیا۔

حسین شاہ سیئول اولمپکس کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹمجھے اولمپکس میں حصہ لینے کی خوشی تو تھی لیکن ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کتنے بڑے مقابلے ہوتے ہیں۔ میں اُنھیں سیف گیمز اور ایشیئن چیمپیئن شپ کی طرح کا مقابلہ سمجھ رہا تھا لیکن جب میں نے افتتاحی تقریب دیکھی تو میری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ اولمپکس مقابلے تو ایک الگ دنیا ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

حسین شاہ کہتے ہیں ’میں نے پہلے مقابلے میں میکسیکو کے باکسر مارٹن کو ہرایا تھا لیکن اسی دوران میرے ہاتھ میں تکلیف ہو گئی تھی جو پورے ٹورنامنٹ میں مجھے پریشان کرتی رہی، اس کے باوجود میں فائٹس لڑتا رہا۔ میں نے دوسری فائٹ میں باکسر کابونگو کو شکست دی تھی۔ تمام پانچ ججوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ کوارٹر فائنل میں ہنگری کے زولٹن کو ہرانے کے بعد میرا کانسی کا تمغہ یقینی ہو گیا تھا۔‘

29 ستمبر کو حسین شاہ سیمی فائنل مقابلے میں کینیڈا کے باکسر ایگرٹن مارکس سے مقابلے کے لیے رنگ میں اُترے جس میں اُنھیں شکست ہوئی۔ یہ یکطرفہ مقابلہ تھا جس میں پانچ میں سے چار ججوں نے کینیڈا کے باکسر کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

حسین شاہ

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

،تصویر کا کیپشنعظیم باکسر محمد علی کے ساتھ

حسین شاہ کہتے ہیں ʹمیں ہاتھ کی تکلیف میں مبتلا تھا لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ میرے حریف کے ہاتھ میں بھی چوٹ لگی ہوئی تھی۔‘

حسین شاہ کا دعویٰ ہے کہ یہ بات اُن کے ساتھی باکسر ابرار حسین کو معلوم تھی لیکن اُنھوں نے حسین شاہ کو یہ نہیں بتایا۔

’اگر مجھے پتہ چل جاتا تو میں مارکس پر زیادہ اٹیک کرتا لیکن بہرحال یہ باتیں کھیل کا حصہ ہوتی ہیں۔‘

’اولمپک میڈل سے زندگی بدل گئی‘

حسین شاہ کہتے ہیں کہ ’اولمپکس کے قواعد و ضوابط کے مطابق دونوں سیمی فائنل ہارنے والے باکسرز کو کانسی کے تمغے ملے تھے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ کانسی کا تمغہ میری منزل نہیں تھی، مجھے اور آگے جانا تھا اور فائنل کھیلنا تھا۔‘

حسین شاہ بتاتے ہیں ’جب میں تمغہ جیت کر وطن واپس آیا تو جو لوگ مجھ پر ہنسا کرتے تھے، اب وہ مجھ سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے۔ مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ اولمپکس میں جیتے گئے کانسی کے تمغے کی اہمیت سیف گیمز اور ایشیئن چیمپیئن شپ کے طلائی تمغے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ جب میں سیف گیمز اور ایشیئن چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر آتا تھا تو میری کوئی آؤ بھگت نہیں ہوا کرتی تھی لیکن جب میں اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیت کر آیا تو ہر طرف سے پذیرائی شروع ہو گئی۔ اولمپک میڈل کے بعد حالات بدل گئے اور میں اور میری فیملی اچھا کھانے اور پہننے لگے تھے۔‘

ملنے والا پلاٹ کہاں گیا؟

حسین شاہ بتاتے ہیں ʹحکومت پاکستان نے مجھے ستارہ امتیاز دیا۔ سندھ کی حکومت نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 120 گز کے پلاٹ کا بھی اعلان کیا لیکن پتہ نہیں اس کا کیا بنا۔ مجھے آج تک وہ نہیں مل سکا۔‘

حسین شاہ کہتے ہیں ʹکراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کے لیے میں تقریباً سات سال تک باکسنگ مقابلوں میں حصہ لیتا رہا پھر اُنھوں نے بھی گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے دو ڈھائی لاکھ روپے دے کر جان چھڑا لی۔‘

حسین شاہ

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

،تصویر کا کیپشناولمپک میڈل وصول کرتے ہوئے

عظیم باکسر محمد علی سے ملاقات

حسین شاہ عظیم باکسر محمد علی سے ملاقات کو زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیتے ہیں۔

’محمد علی 1989 کے سیف گیمز کے موقع پر پاکستان آئے تھے تو اس وقت میری ان سے ملاقات ہوئی۔ جب میں نے اُنھیں بتایا کہ میں نے بھی آپ کی طرح اولمپکس میں تمغہ جیتا ہے تو اُنھیں یقین نہیں آیا کہ پاکستان سے بھی کوئی باکسر اولمپکس میں تمغہ جیت سکتا ہے۔ وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے گلے لگایا اور اپنے ساتھ تصویریں بنوائیں۔‘

یاد رہے کہ محمد علی نے پروفیشنل باکسر بننے سے قبل امیچر باکسر کی حیثیت سے سنہ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔

’یہاں رہتا تو محنت مزدوری ہی کرتا رہتا‘

حسین شاہ کا کہنا ہے ʹمیرے پاکستان چھوڑنے کی وجہ بہتر مستقبل کی تلاش تھی جس کے لیے میں نے پروفیشنل باکسنگ اختیار کی۔ ایک پروموٹر خالد جاوید تھے اُنھوں نے سکواش چیمپیئن جہانگیر خان سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان سے حسین شاہ کو برطانیہ لائیں تاکہ وہ پروفیشنل باکسنگ میں حصہ لے سکے جس پر جہانگیر خان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم انگلینڈ جانے کے لیے راضی ہو؟ میرے پاس انکار کی کوئی وجہ موجود نہ تھی۔‘

حسین شاہ بتاتے ہیں ʹمیں نے اس بارے میں پروفیسر انور چوہدری کو بھی نہیں بتایا کہ میں ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اگر بتاتا تو وہ نہیں جانے دیتے۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے اور بیٹے کی طرح خیال رکھتے تھے۔ جب میں انگلینڈ میں تھا تو وہ اپنے علاج کے لیے وہاں آئے تھے۔ میرا بیٹا شاہ حسین شاہ اُن ہی دنوں پیدا ہوا تھا۔ پروفیسر صاحب مجھ سے ملے لیکن میرے پاکستان چھوڑنے پر کوئی بات نہیں کی البتہ میرے نومولود بیٹے کو سو ڈالر دیے تھے۔‘

حسین شاہ

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

،تصویر کا کیپشناولمپک میڈل جیتنے کے بعد

حسین شاہ کہتے ہیں کہ ’لوگ اکثر مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ اولمپک میڈلسٹ اور سیف گیمز میں پانچ گولڈ میڈل جیتنے والے واحد پاکستانی باکسر ہیں لیکن آپ کا بیٹا جوڈو کا کھلاڑی ہے۔ ایسا کیوں؟

’اس کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ میرا بیٹا شاہ حسین شاہ جاپان میں رہ کر باکسنگ کو اپناتا تو شاید اس کا کریئر اتنا کامیاب نہ ہوتا۔ جوڈو جاپان کا قومی کھیل ہے اسی لیے میری بیگم نے مجھے مشورہ دیا کہ شاہ حسین شاہ کو جوڈو کرواتے ہیں۔ وہ دو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکا ہے، اس نے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا جبکہ ساؤتھ ایشین گیمز میں وہ دو طلائی تمغے جیت چکا ہے۔‘

حسین شاہ کہتے ہیں کہ ʹمجھے پاکستان چھوڑنے کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں کیونکہ پاکستان میں رہتا تو محنت مزدوری کر رہا ہوتا۔ آج میں ٹوکیو میں مطمئن زندگی گزار رہا ہوں۔ میرا ذاتی گھر ہے۔ میں تعلیم حاصل نہ کر سکا لیکن خوشی ہے کہ میرے دونوں بیٹوں نے ٹوکیو کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی۔‘