اولمپک مقابلوں میں غیر متاثر کن کارکردگی: پاکستان میں کھیلوں کا بجٹ کہاں چلا جاتا ہے اور کس پر خرچ ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ٹوکیو اولمپکس میں امریکہ، چین اور جاپان کے تمغوں کی چمک دمک اور ان کی تعداد سے مرعوب ہونے کے بجائے مکمل میڈلز ٹیبل پر نگاہ ڈالی جائے تو جو بات سب کو متاثر کرتی ہے وہ ان مقابلوں میں تمغے حاصل کرنے والے ممالک میں سب سے آخری نمبر پر مشرقِ وسطی کے ملک شام کی موجودگی ہے۔
اگرچہ شام کے علاوہ دیگر سات ممالک نے بھی ٹوکیو اولمپکس میں کانسی کا صرف ایک تمغہ جیتا ہے لیکن شام کا معاملہ اس لیے دیگر ملکوں سے مختلف ہے کہ پچھلے دس سال سے یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہے اور وہاں لاکھوں افراد ہلاک دربدر ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں شام کے کھلاڑیوں کا ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینا اور ویٹ لفٹر مان اسعد کا تمغہ جیتنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
شام کی اولمپک کمیٹی کے ڈائریکٹر میڈیا صفوان الہندی دمشق سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں کہتے ہیں ʹیہ کانسی کا تمغہ ہمارے لیے بہت کچھ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ہمارا ملک کس تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہے۔ ان مشکل حالات میں مان اسعد نے جس محنت سے ٹریننگ کی اور پہلے ازبکستان میں ایشین ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں کانسی جیتا اور اب اولمپکس میں بھی کانسی کا تمغہ جیت کر پوری قوم کو خوش ہونے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے کیونکہ آخری بار شام نے اولمپک میڈل سترہ سال پہلے جیتا تھا۔ʹ
انھوں نے بتایا کہ مان اسعد نے اپنی زیادہ تر ٹریننگ دمشق میں اپنے بڑے بھائی کی نگرانی میں کی۔ اسعد کے والد باڈی بلڈر رہے ہیں جبکہ ایک بھائی شام کی خانہ جنگی میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے ویٹ لفٹر کا ان مشکل حالات میں اولمپک میڈل جیتنا یہ اہم سوال ُاجاگر کرتا ہے کہ خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار ہونے والا یہ ملک دنیا کے سب سے بڑے مقابلے میں آکر تمغہ جیت سکتا ہے تو پھر پاکستان جہاں کھیلوں کی سہولتیں خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے کہیں زیادہ بہتر ہیں، پاکستان کا ان مقابلوں سے خالی ہاتھ آنا کیا معنی رکھتا ہے؟
انڈیا سے موازنہ کیوں؟
یہ اب معمول کی بات بن چکی ہے کہ ایشیئن گیمز، کامن ویلتھ گیمز یا اولمپکس کے ختم ہوتے ہی پاکستان کی کارکردگی کا موازنہ پڑوسی ملک انڈیا سے شروع کر دیا جاتا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہاں کھلاڑیوں کو کتنی بہترین سہولتیں میسر ہیں اور کھیلوں پر کتنا زیادہ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس کے اختتام پر بھی اسی طرح کی بحث شروع ہوچکی ہے لیکن حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ موازنہ کسی طور بھی درست نہیں کیونکہ پاکستان اور انڈیا میں کھیلوں کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح کھیلوں کے بجٹ کا حجم بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہت واضح فرق بیان کر رہا ہوتا ہے۔
تاہم یہ سوال کیا جانا ضرور حق بجانب بنتا ہے کہ اگر پاکستانی کھلاڑی ٹوکیو اولمپکس میں میڈل نہیں جیت پائے ہیں تو ایسا کیوں ہوا اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہJEWEL SAMAD
پاکستان میں کھیلوں کا بجٹ
پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق میں کھیلوں کی وزارت ختم کردی گئی تھی اور یہ وزارت ہر صوبے کو چلی گئی تھی جس کے بعد ملک میں کھیلوں کے قومی معاملات بین الصوبائی رابطے کی وزارت دیکھتی ہے۔
بین الصوبائی رابطے کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پاکستان سپورٹس بورڈ کی صدر بھی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ʹجو غیرترقیاتی بجٹ ہے وہ پورے سال کا ایک ارب روپے ہے جو بہت کم ہے۔ جس طرح دنیا بھر میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے فنڈنگ ہو رہی ہے ان کے مقابلے میں پاکستان کا یہ بجٹ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس ایک ارب روپے میں بھی 40 فیصد یوٹیلٹی بلز اور سٹاف کی تنخواہوں پر چلا جاتا ہے جس کے بعد جو کچھ بچتا ہے اس میں ٹریننگ کیمپس لگتے ہیں اور کھلاڑیوں کو باہر بھیجا جاتا ہے۔ʹ
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے ʹاگر پاکستان کو کھیلوں میں آگے جانا ہے تو وفاقی حکومت کو اپنے فنڈز بڑھانے ہونگے اور صوبائی حکومتوں کو بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چار میں سے تین صوبوں میں کھیلوں کا باقاعدہ کوئی وزیر ہی نہیں ہے۔ʹ
چوالیس کروڑ روپے کیا واقعی خرچ نہیں ہوئے؟
ٹوکیو اولمپکس کے موقعے پر یہ بحث بھی ذرائع ابلاغ میں زوروں پر رہی کہ پاکستان سپورٹس بورڈ نے اولمپکس سے قبل چوالیس کروڑ روپے ایتھلیٹس اور کھلاڑیوں پر خرچ کرنے کے بجائے حکومت کو واپس کردیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اس کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں ʹجو بھی پیسے ہوتے ہیں وہ ہمیں سہ ماہی کی بنیاد پر ملتے ہیں لیکن کووڈ کی وجہ سے جو صورتحال رہی اس میں کھلاڑیوں کے کیمپس نہیں لگ سکے اور وہ باہر نہیں جاسکے یہی وجہ ہے کہ سہ ماہی کے پیسے ہمیں جاری ہی نہیں ہوئے۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ یہ پیسے ہمارے پاس آئے ہوں اور ہم نے واپس کردیے ہوں۔ʹ
یہ بھی پڑھیے
ارشد ندیم کی ٹریننگ
وفاقی وزیر کا کہنا ہے ʹپاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ارشد ندیم کی ٹریننگ کے بارے میں ہمیں جو پروگرام دیا تھا ہم نے اس پر فیڈریشن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ بدقسمتی سے کووڈ کی وجہ سے ارشد ندیم کی ملک سے باہر ٹریننگ متاثر ہوئی۔ وہ ترکی گئے تھے لیکن انہیں کووڈ ہوگیا اور انہیں واپس آنا پڑا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ارشد ندیم کی غیرملکی کوچ سے ٹریننگ نہیں کرائی گئی تو انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انہی پاکستانی کوچ نے ارشد ندیم کی ٹریننگ کر کے انہیں اولمپکس تک پہنچایا۔
پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر منیجر جنرل (ریٹائرڈ ) محمد اکرم ساہی کہتے ہیں ʹارشد ندیم کی ٹریننگ پر مجموعی طور پر دو کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے پاس پیسے نہیں تھے لیکن ارشد ندیم کی اولمپکس میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے انھوں نے ذاتی دلچسپی لی اور سپانسرز وغیرہ کی مدد سے ان کی ٹریننگ کو ممکن بنایا۔ʹ

،تصویر کا ذریعہReuters
کیا کھیلوں کے ادارے تباہ ہوچکے ہیں؟
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کہتی ہیں ʹپاکستان میں کھیلوں کے معاملات چلانے کے تین بنیادی ادارے یا ڈھانچے پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور کھیلوں کی قومی فیڈریشنز ہیں۔ میں نے اپنے ان تین برسوں میں ان تینوں اداروں کی تباہی دیکھی ہے۔ کوئی سسٹم نہیں ہے کہ ہم اپنے ایتھلیٹس کی طرف توجہ مرکوز کرتے۔ صرف اپنے ذاتی مفادات تھے اور اندرونی لڑائیاں تھیں جس کی وجہ سے یہ ادارے تباہ ہوگئے ہیں۔ʹ
فہمیدہ مرزا کہتی ہیں ʹپاکستان میں قومی سپورٹس پالیسی آخری بار 2005 میں بنی تھی لیکن اب نئی قومی سپورٹس پالیسی تیار ہے جس پر وہ وزیراعظم عمران خان سے بھی بات کریں گی اور تمام سٹیک ہولڈرز سے بھی بات کی جائے گی۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سپورٹس پالیسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شخصیات ہیں جو نہیں چاہتیں کہ ان سے جواب طلبی ہو۔ وہ چاہے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ہو یا فیڈریشنیں ہوں، انھوں نے خود مختاری کے نام پر اور ملک کو اولمپک رکنیت کی بلیک میلنگ کر کے اس ملک کے باصلاحیت بچوں کا نقصان کیا ہے لیکن اب حکومت اس ضمن میں کوئی بھی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گی کیونکہ کوئی بھی شخص ملک کے قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ʹ
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے مطابق ٹریننگ کی بڑی ذمہ داری فیڈریشن کی ہوتی ہے کیونکہ وہ ٹیلنٹ ہنٹ کے ذریعے کھلاڑی کو اوپر لارہے ہوتے ہیں۔
’اس میں حکومت بھی ان کی مدد کرتی ہے لیکن ہم نے یہاں یہ بھی دیکھا ہے کہ چار افراد جمع ہوں اور سوسائٹی ایکٹ کے تحت فیڈریشن بنا لیں اور پھر حکومت سے کہیں کہ ہمیں پیسے دیتی رہے۔ فیڈریشن پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کی اپنی فنڈنگ ہونی چاہیے۔ چونکہ کھیلوں کی وزارت اب صوبوں میں ہے لہٰذا ہر صوبے کو بھی اپنی سطح پر یہ ذمہ داری لینی چاہیے اور جب قومی ٹیم بننے کا وقت آئے تو یقیناً وفاقی حکومت بھی ان کی مدد کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہPakistan Olympic Association
متوازی فیڈریشنز اور من پسند آفیشلز
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی آفیشل ویب سائٹ پر اس وقت اس سے الحاق رکھنے والی 33 سپورٹس فیڈریشنوں کے نام نظر آتے ہیں لیکن اب بھی چند کھیل ایسے ہیں جن کی فیڈریشنوں کے معاملات یا تو عدالتوں میں ہیں یا پھر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے انہیں معطل کر رکھا ہے جن میں ایتھلیٹکس قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ سائیکلنگ اور جوڈو کی فیڈریشنیں بھی معطل ہیں۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے ووٹ بینک کے لیے من پسند افراد پر مشتمل متوازی فیڈریشنیں بنائی ہیں اور جو حقیقی فیڈریشنز تھیں ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ بھی تاثر عام ہے کہ جو فیڈریشنز پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی بات نہیں مانتی ہیں انہیں قومی سپورٹس دھارے سے بھی باہر کردیا جاتا ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عارف حسن بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے ʹدنیا جانتی ہے کہ کس نے ُاس وقت کی حکومت کی ایما پر میجر جنرل (ریٹائرڈ) اکرم ساہی کی سربراہی میں ایک پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن بنائی تھی جسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے نہ صرف تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ پاکستان کی رکنیت معطلی کے خطرے سے دوچار ہوگئی تھی اور پھر حکومت پاکستان کے نمائندے نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے سامنے ہماری ایسوسی ایشن کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔ʹ
عارف حسن کہتے ہیں ʹپاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اپنے طور پر یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ کون سی فیڈریشن اس سے الحاق رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ اس کے لیے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ جہاں تک ایتھلیٹکس فیڈریشن کا تعلق ہے تو اس کے تین ایتھلیٹس کو دو سال قبل ساؤتھ ایشین گیمز میں ڈوپنگ کی پاداش میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے واڈا قوانین کے تحت انکوائری کی تھی لیکن پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے اس انکوائری میں متعدد بار یاد دہانی کے باوجود پیش ہونے سے انکار کردیا تھا بلکہ تحریری طور پر یہ کہہ دیا تھا کہ وہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے الحاق رکھنا نہیں چاہتی۔ ایتھلیٹکس فیڈریشن اگر چاہتی تو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کرسکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اسے پتا تھا کہ اس کی معطلی کا فیصلہ درست تھا۔ʹ

،تصویر کا ذریعہReuters
لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کا کہنا ہے ʹ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جو بھی قدم اٹھاتی ہے اور اٹھا رہی ہے وہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چارٹر کے عین مطابق ہوتا ہے اور یہ کہنا قطاً درست نہیں ہے کہ پی او اے کسی کو بھی جوابدہ نہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اولمپک چارٹر کی تابع ہے لیکن چونکہ حکومت پاکستان کی طرف سے اسے کوئی فنڈنگ نہیں ہوتی لہٰذا اولمپک چارٹر کی تعمیل اور ایسوسی ایشن اندرونی معاملات کے ضمن میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن حکومت پاکستان کو جوابدہ نہیں ہے۔‘
تمغہ نہیں جیتا تو کون ذمہ دار ہے؟
پاکستان میں بہت کم لوگوں کو پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے طریقہ کار اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی ہوتی ہے تو ہر کوئی سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتا ہے اور جب کارکردگی خراب ہو تو ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا جانا عام سی بات ہے۔
ٹوکیو اولمپکس کے اختتام پر بھی یہی صورتحال ہے اور اکثر تبصروں اور تجزیوں میں ملک کی قومی اولمپک کمیٹی یعنی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور خاص کر اس کے صدر لیفننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے کہ وہ سترہ سال سے صدر ہیں اور پاکستان اولمپک میں تمغہ نہیں جیت پایا ہے۔
لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن بی بی سی اردو کے اس سوال پر کہتے ہیں ʹیہ بات تو پاکستان سپورٹس بورڈ کی اپنی ویب سائٹ پر واضح طور پر موجود ہے کہ ملک میں انفرا اسٹرکچر، ٹریننگ، کوچنگ اور کھلاڑیوں کی بین الاقوامی معیار کی فٹنس کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پاکستان سپورٹس بورڈ کی ہے لہٰذا یہ کہنا ہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کھلاڑیوں کو تمغے نہیں جتوا سکی، بالکل غلط ہے۔ʹ
یہ بھی پڑھیے
عارف حسن کہتے ہیں ʹجہاں تک پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا تعلق ہے تو کسی بھی دوسرے ملک کی قومی اولمپک کمیٹی کی طرح وہ بھی اولمپک چارٹر کو اپنے ملک میں محفوظ بنانے کی ذمہ دار ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا سپورٹس ڈیولپمنٹ سے کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ اس مقصد کے لیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو حکومت سے کوئی فنڈننگ نہیں ملتی۔ʹ
عارف حسن کہتے ہیں ʹجب پاکستانی ایتھلیٹس کی کارکردگی کا موازنہ دوسرے ملکوں سے کیا جاتا ہے تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان ملکوں کی حکومتوں نے سپورٹس پر کتنا خرچ کیا ہے اور ہمارے ملک میں کتنا خرچ ہورہا ہے۔ʹ

،تصویر کا ذریعہReuters
عارف حسن کہتے ہیں ʹیہ محض پروپیگنڈا ہے کہ ہم حکومت سے تعاون نہیں کرتے۔ اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کی مثال بھی دینی چاہیے کہ ہم نے کب کسی قسم کی دھمکی دی ہے۔ اگر ہم سے یہ کہا جائے کہ ہم اپنے آئین کی خلاف ورزی کریں تو یہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے۔ ہم سے یہ کہا جائے کہ ہم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چارٹر کی خلاف ورزی کریں تو یہ نہیں ہوسکتا۔ ہم ان سے بات چیت ضرور کرسکتے ہیں لیکن آئین کی خلاف ورزی قطعاً نہیں کرسکتے۔ʹ
لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن سترہ سال سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا صدر چلے آنے کو جمہوری عمل قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس عہدے پر 2004 سے منتخب ہوتے آرہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے ʹہر کسی کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہوتی ہے اور یہ ہر کسی کا حق ہے۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) اکرم ساہی نے دو بار میرے مقابلے میں صدر کا الیکشن لڑا لیکن ہارگئے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے انتخابات انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے آئین کے مطابق ہوتے ہیں۔ʹ
وہ کہتے ہیں ʹانٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے آئین میں اس کا صدر پہلے آٹھ سال لگاتار اپنے عہدے پر منتخب ہوتا ہے جس کے بعد اسے مزید چار سال دیے جاتے ہیں۔ اس طرح لگاتار بارہ سال وہ صدر ہوسکتا ہے لیکن اس کے بعد بھی اگر وہ چاہے تو اس عہدے پر رہ سکتا ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا آئین بھی اسی سے مطابقت رکھتا ہے اور جو بھی چاہے وہ الیکشن جیت کر صدر بن سکتا ہے اس میں مدت کی کوئی قید نہیں۔ʹ
جنرل عارف حسن کہتے ہیں کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے آئین میں صدر کی عمر کی حد 75سال مقرر ہے اور یہ بھی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے آئین سے مطابقت رکھتی ہے۔ʹ










