ارشد ندیم: میاں چنوں کے گاؤں کا کرکٹر ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مرحلے میں

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے 25 سالہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے امریکہ میں جاری ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں جیولن تھرو ایونٹ کے فائنل مرحلے میں جگہ بنا لی ہے۔
ارشد فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے 12 ایتھلیٹس میں شامل ہیں جو 24 جولائی کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے منعقد ہو گا۔
ارشد ان عالمی مقابلوں میں ایتھلیٹکس کے کسی بھی زمرے میں حتمی مرحلے میں پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں۔
انھوں نے 21 جولائی کو کوالیفائنگ مقابلوں کے گروپ بی میں 71.81 میٹر فاصلے پر جیولن پھینک کر گروپ بی میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ وہ فائنل میں جگہ بنانے والے 12 ایتھلیٹس میں مجموعی طور پر نویں نمبر پر رہے۔
ارشد نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں جس فاصلے تک نیزہ پھینکا یہ اس برس تو ان کی بہترین پرفارمنس تھی لیکن ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی نہیں تھی اور وہ سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز فاصلے تک نیزہ پھینک کر ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں اور اس ریکارڈ کو انھوں نے ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے دوران ایران میں مزید بہتر کیا تھا۔
اسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ گذشتہ برس براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہوئے تھے جہاں 84 اعشاریہ 62 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔
اولمپکس میں ان مقابلوں میں طلائی تمغہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے نیرج چوپڑا حاصل کر کے تاریخ رقم کی تھی اور وہ ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں پہلے اور انفرادی طور پر اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے دوسرے انڈین بن گئے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں جیولن تھرو ایونٹ کے فائنل میں بھی نیرج چوپڑا کو تمغے کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے جنھوں نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 88.39 میٹر دور جیولن پھینک کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میاں چنوں کے گاؤں کا کرکٹر ایتھلیٹ کیسے بنا؟
ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔
ان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ہے۔ ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔
رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFayyaz Hussain Bokhari
رشید احمد ساقی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد ندیم جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے، اُنھیں وہ اس وقت سے جانتے ہیں۔ ’اس بچے کو شروع سے ہی کھیلوں کا شوق تھا۔ اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے سکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔‘
رشید احمد ساقی کہتے ہیں ’میرے ارشد ندیم کی فیملی سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن ان کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ ارشد ندیم اب آپ کے حوالے ہے، یہ آپ کا بیٹا ہے۔ میں نے ان کی ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالی اور پنجاب کے مختلف ایتھلیٹکس مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بھیجتا رہا۔ ارشد نے پنجاب یوتھ فیسٹیول اور دیگر صوبائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔‘
وہ کہتے ہیں ʹیوں تو ارشد ندیم شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو اور دوسرے ایونٹس میں بھی حصہ لیتے تھے لیکن میں نے ان کے دراز قد کو دیکھ کر اُنھیں جیولن تھرو کے لیے تیار کیا۔‘
رشید احمد ساقی بتاتے ہیں ʹمیں نے ارشد ندیم کو ٹریننگ کے لیے پاکستان ایئر فورس بھیجا لیکن ایک ہفتے بعد ہی واپس بلا لیا۔ اس دوران پاکستان آرمی نے بھی ارشد ندیم میں دلچسپی لی بلکہ ایک دن آرمی کی گاڑی آئی اور اس میں موجود ایک کرنل صاحب میرا پوچھ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہFayyaz Hussain Bukhari
’میں گھبرا گیا کہ کیا ماجرا ہے؟ لیکن جب اُنھوں نے ارشد ندیم کی بات کی تو میری جان میں جان آئی۔ کرنل صاحب بولے ارشد ندیم کو آرمی میں دے دیں ، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ کرنل صاحب نے وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ آپ لوگ اس کی ٹریننگ ملٹری انداز میں کریں گے۔ بہرحال اس کے بعد میں نے ارشد ندیم کو واپڈا کے ٹرائلز میں بھیجا جہاں وہ سلیکٹ ہو گئے۔‘
ارشد ندیم شادی شدہ ہیں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
رشید احمد ساقی کہتے ہیں ʹمیں ارشد ندیم کو مذاقاً کہتا تھا کہ اولمپکس میں شرکت کا خواب پورا ہو جائے تو پھر شادی کرنا، لیکن آپ کو پتہ ہی ہے کہ گاؤں میں شادیاں کم عمری اور جلدی ہو جایا کرتی ہیں۔‘
بہت جلدی سیکھنے والا شاگرد
ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو اُنھیں ٹوکیو اولمپک سٹیڈیم تک لے گیا ہے جہاں ان کا مقابلہ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس سے ہے۔
ارشد ندیم کے موجودہ کوچ فیاض حسین بخاری ہیں جن کا تعلق پاکستان واپڈا سے ہے۔ وہ خود بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
فیاض حسین بخاری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم ایک سمجھدار ایتھلیٹ ہیں جو بہت جلدی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کام ایک عام ایتھلیٹ چھ ماہ میں کرتا ہے ارشد وہ کام ایک ماہ میں کر لیتے ہیں۔‘
اُن کے مطابق دو سال قبل ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز سے قبل اُن دونوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اولمپکس میں وائلڈ کارڈ کے ذریعے نہیں جانا بلکہ کارکردگی کے ذریعے کوالیفائی کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہFayyaz Hussain Bukhari
فیاض بخاری کہتے ہیں ʹاولمپکس میں ارشد ندیم کا مقابلہ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس سے ہے لیکن وہ بہت زیادہ پرامید ہیں کہ ارشد ندیم اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ہم پر یہ قوم کا قرض ہے اور ہم اسے اتاریں گے۔‘
ارشد ندیم کا انٹرنیشنل کریئر
ارشد ندیم نے 2016 میں انڈیا کے شہر گوہاٹی میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز اور ویتنام میں ہونے والی ایشین جونیئر ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں کانسی کے تمغے جیتے۔
سنہ 2017 میں باکو میں ہونے والے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پھر 2018 میں جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی سال اُنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔
اس کے بعد 2019 میں ارشد ندیم نے قطر میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سولہویں پوزیشن حاصل کی اور 81 اعشاریہ 52 میٹرز کے ساتھ نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔
اُسی سال اُنھوں نے کٹھمنڈو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز کے ساتھ ان کھیلوں کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے سلسلے میں ایران کے شہر مشہد میں ہونے والے مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا جہاں اُنھوں نے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ 86 اعشاریہ 38 میٹرز دور نیزہ پھینک کر اپنا ہی قائم کردہ قومی ریکارڈ بہتر بنایا۔
ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم وہ کارکردگی تو نہ دکھا سکے جن کی ان سے امید کی جا رہی تھی اور وہ اس برس جیولن پھینکنے کی اپنی بہترین کارکردگی دوہرا نہ سکے اور فائنل مقابلے میں ان کی بہترین کوشش 84 اعشاریہ 62 میٹر رہی اور وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔












