نیرج چوپڑا کا ارشد ندیم سے متعلق بیان: ’پوڈیم پر پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے تو ایشیا کا نام ہو جاتا‘

،تصویر کا ذریعہJAVIER SORIANO
'اچھا ہوتا اگر پوڈیم پر میرے ساتھ پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے'۔
یہ کہنا ہے انڈیا کو ٹوکیو اولمپکس میں واحد طلائی تمغہ دلوانے والے نیرج چوپڑا کا۔
نیرج چوپڑا ان دنوں سرخیوں میں ہیں۔ 2008 کے بعد انڈیا نے کسی انفرادی ایونٹ میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر دور نیزہ پھینک کر گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔
پیر کو انڈیا واپسی پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ لیکن ٹوکیو اولمپکس میں کامیابی حاصل کرنے والے نیرج چوپڑا کے دل میں شاید کوئی کسک رہ گئی ہے۔
نیوز چینل ٹی وی 18 کے ساتھ انٹرویو میں نیرج نے کہا کہ اگر پوڈیم پر ان کے ساتھ پاکستان کے ارشد ندیم بھی ہوتے تو ’ایشیا کا نام ہو جاتا اور یہ کتنا اچھا ہوتا‘۔
دراصل ارشد ندیم فائنل میں پہنچنے کے باوجود پانچویں نمبر پر رہے اور میڈل سے محروم رہے۔ اس کے باوجود انہیں بہت سراہا گیا ہے اور میڈیا میں ان کی جدوجہد کی کہانی پر کافی بات ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBEN STANSALL
نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کے درمیان گرمجوشی کا ذکر کئی برسوں سے ہو رہا ہے لیکن اس وقت ان کا ذکر بہت زیادہ ہوا جب یہ ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو کے فائنل میں پہنچے اور دونوں کھلاڑیوں کا میڈیا پر ایک ساتھ نام لیا جانے لگا۔
کوالیفائنگ راؤنڈ میں نیرج چوپڑا اپنے گروپ میں سرفہرست تھے جبکہ ارشد ندیم بھی اپنے گروپ میں سب سے آگے تھے۔ لیکن ارشد فائنل میں بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے اور 84.62 میٹر کے تھرو کے ساتھ پانچویں نمبر پر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اس کے باوجود پاکستان میں ارشد ندیم کو بہت سراہا گیا۔ ارشد کے علاوہ پاکستان نے نیرج چوپڑا پر کھل کر پیار برسایا۔ فائنل سے پہلے ارشد کے ساتھ نیرج چوپڑا کو بھی مبارکباد دی گئی اور فتح کے بعد بھی نیرج چوپڑا کو پاکستان کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات ملتے رہے۔
بے شمار ایوراڈز اور کامیابی کے بعد انڈیا واپس آنے پر بھی نیرج اپنے دل کی کسک کو نہیں بھلا پائے۔ انٹرویو کے دوران نیرج چوپڑا تھکے ہوئے نظر آرہے تھے اور ان کی بات سے واضح تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ ارشد ندیم پوڈیم پر ان کے ساتھ ہوتے اور کوئی میڈل جیتے۔

،تصویر کا ذریعہJEWEL SAMAD
انڈیا پاکستان دشمنی پر نیرج چوپڑا نے کہا کہ 'یہ کرکٹ میں چل جاتا ہے۔ سات آٹھ ممالک ہوتے ہیں۔ لیکن اولمپکس میں یہ سب کرنا درست نہیں ہے۔'
انٹرویو کے دوران نیرج نے یہ بھی بتایا کہ طلائی تمغہ جیتنے کے ایک دن بعد انہوں نے اختتامی تقریب سے پہلے ڈائننگ ہال میں ارشد ندیم سے ملاقات کی تھی۔ دونوں نے بہت گرمجوشی سے ملاقات کی۔ نیرج چوپڑا کے مطابق ارشد ندیم نے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں مبارکباد دی۔

،تصویر کا ذریعہMATTHIAS HANGST
لیکن نیرج چوپڑا نے ان سے کیا کہا اس پر نیرج کہتے ہیں 'میں نے کہا تھا کہ تم اپنے قومی لباس میں تگڑے دکھائی دیتے ہو۔ میں نے انہیں مستقبل کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔'
جب نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم فائنل میں پہنچے تو ان دونوں کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی۔
یہ تصویر 2018 کے ایشین گیمز کی تھی۔ اس تصویر میں دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گرم جوشی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس وقت بھی اس تصویر نے کافی سرخیاں بٹوری تھیں۔ 2018 کے ایشین گیمز میں نیرج چوپڑا نے طلائی اور ارشد ندیم نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔










