ٹوکیو اولمپکس 2020: جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا نے طلائی تمغہ اور ارشد ندیم نے پاکستانیوں کے دل جیت لیے

نیرج اور ارشد ندیم

،تصویر کا ذریعہEPA/Getty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے ارشد ندیم بھی اولمپکس میں کوئی بھی میڈل جیتنے کا 29 سالہ پاکستانی انتظار ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انھوں نے جیولن تھرو کے فائنل ایونٹ میں مجموعی طور پر پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

یہ مقابلہ انڈیا کے نیرج چوپڑہ نے جیت کر انڈیا کے لیے نہ صرف ٹوکیو اولمپکس میں پہلا گولڈ میڈل جیتا بلکہ وہ انفرادی طور پر اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے دوسرے انڈین بھی بن گئے ہیں۔

نیرج چوپڑا نے 87 اعشاریہ پانچ آٹھ میٹر دور جیولن پھینک کر سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ اس ایونٹ میں چاندی اور کانسی کا تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کا تعلق جمہوریہ چیک سے ہے۔

ٹوکیو اولمپکس کے جیولن تھرو کے فائنل راؤنڈ میں ارشد ندیم کا مقابلہ عالمی نمبر ایک جرمنی کے یوہانس ویٹر اور ایشیئن گیمز و کامن ویلتھ گیمز چیمپیئن انڈیا کے نیرج چوپڑا سمیت 12 ایتھلیٹس سے تھا۔

جب ارشد فائنل راؤنڈ میں داخل ہوئے تھے تو اس سال کی بہترین کارکردگی کے اعتبار سے وہ ان 12 ایتھلیٹس میں چوتھے نمبر پر تھے۔

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

ارشد ندیم نے یوں تو مقابلہ خوب کیا لیکن اپنی پہلی تھرو 82 اعشاریہ چار میٹر دور پھینکی، ان کی دوسری تھرو فاؤل قرار پائی جبکہ ان کی تیسری تھرو 84 اعشاریہ چھ دو میٹر دور پہنچی۔ اس تیسری تھرو کے باعث وہ 12 ایتھلیٹس میں سے پانچویں نمبر پر رہے۔

چوپس سالہ ارشد ندیم اولمپکس میں تمغہ نہ جیتنے کا وہ جمود بھی نہ توڑ سکے جو 29 سال سے قائم تھا۔ پاکستان نے آخری مرتبہ اولمپکس میں تمغہ سنہ 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں جیتا تھا جب ہاکی ٹیم شہباز احمد کی قیادت میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

ارشد ندیم کی اس سال کی بہترین کارکردگی 86 اعشاریہ 38 میٹرز تھی جو انھوں نے ایران کے شہر مشہد میں منعقدہ مقابلے میں دکھائی تھی۔

ارشد ندیم نے بدھ کے روز ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں میں 85 اعشاریہ 16 میٹرز دور جیولن پھینک کر فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔وہ کوالیفائنگ مقابلوں میں گروپ بی میں پہلے نمبر پر رہے تھے جبکہ مجموعی طور پر کوالیفائنگ راؤنڈ میں ان کی تیسری پوزیشن رہی تھی۔

گاؤں

ارشد کو کورونا نہ ہوتا تو وہ سب کو پیچھے چھوڑ دیتا: والد

ارشد کے میچ سے قبل ان کے گاؤں چک نمبر 101-15 ایل میں جگہ جگہ دعائیہ تقاریب منعقد کروائی گئی تھیں اور یہ ایونٹ دیکھنے کے لیے مختلف مقامات پر خصوصی انتظامات بھی کیے گئے۔

اس دوران گاؤں میں ماحول خاصا پرجوش تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارشد کی بہن نے کہا کہ 'آج ایسا لگ رہا جیسے ارشد کا ولیمہ ہے۔'

اس دوران ان کی رہائش گاہ پر موجود خواتین کو دعا کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور مقابلے کے بعد وہ اور گاؤں کے دیگر افراد خاصے افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔

ارشد ندیم کے والد سے ان کی رہائش گاہ پر بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر نے اس مقابلے کے اختتام پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ارشد ترکی نہ جاتا اور اسے کورونا نہ ہوتا تو یقیناً وہ سب کو پیچھے چھوڑ دیتا۔‘

ہماری نامہ نگار ترہب اصغر نے گاؤں کے جن افراد سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ چاہے ارشد کوئی تمغہ نہیں جیت پایا لیکن اس نے جس جگہ سے اٹھ کر، وسائل کے بغیر اولمپکس میڈل جیتا ہے ہمارے لیے یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے۔

ارشد ندیم

،تصویر کا ذریعہEPA

ارشد ندیم اولمپکس تک کیسے پہنچے؟

ارشد ندیم پہلے ہی نیا باب رقم کر چکے تھے کہ وہ پاکستان کے پہلے ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے وائلڈ کارڈ انٹری یا انویٹیشن کوٹے کی بجائے اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا تھا اور جب انھوں نے فائنل راؤنڈ میں جگہ بنائی تو یہ بھی پہلا موقع تھا کہ کوئی بھی پاکستانی ایتھلیٹ اولمپکس کے ٹریک اینڈ فیلڈ کے فائنل مقابلوں تک پہنچا ہو۔

اس سے پہلے ماضی میں تمام ایتھلیٹس ابتدائی مقابلوں سے آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

ارشد ندیم نے سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں ہونے والے ساؤتھ ایشیئن گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور جیولن پھینک کر نہ صرف ان مقابلوں کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا بلکہ اولمپکس کے لیے بھی براہ راست کوالیفائی کیا تھا۔

واضح رہے کہ اولمپکس کے جیولن تھرو میں براہ راست کوالیفائی کرنے کا فاصلہ 85 میٹرز مقرر ہے۔

صاحبِ اسریٰ

ارشد ندیم کی کارکردگی کیا معنی رکھتی ہے؟

ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم کی غیرمعمولی کارکردگی کو پورے ملک میں سراہا گیا ہے اور خاص کر ایتھلیٹکس کے حلقوں میں اسے مستقبل کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں نوجوان ایتھلیٹس کو ارشد ندیم کی اس کارکردگی سے بہت حوصلہ ملے گا۔

پاکستان کی خاتون ایتھلیٹ صاحبِ اسریٰ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ارشد ندیم دوسرے ایتھلیٹس کے لیے ایک مثال ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ارشد ندیم کی سب سے بڑی خوبی ان کی عاجزی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں کے باوجود ان میں غرور نام کی چیز نہیں۔‘

وہ بتاتی ہی کہ ’جب ہم واپڈا کے ٹریننگ کیمپ میں ٹریننگ کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنے تمام ساتھیوں کو تکنیکی باتیں سمجھا رہے ہوتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوتے ہیں۔‘

ان کا رویہ تمام ساتھی ایتھلیٹس کے ساتھ دوستانہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کبھی بھی یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کی ہے کہ وہ انٹرنیشنل ایتھلیٹ ہیں۔ ہم تمام ایتھلیٹس جب انھیں بین الاقوامی سطح پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو فخر محسوس کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2019 کے ساؤتھ ایشیئن گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی صاحبِ اسریٰ کہتی ہیں ’ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس میں جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے مجھ میں بھی بے پناہ جوش پیدا ہوا ہے کہ میں بھی ان ہی کی طرح اولمپکس میں شرکت کا خواب حقیقت بنا سکوں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں بھی ان کی طرح وائلڈ کارڈ کے بجائے براہ راست کوالیفائی کرنا چاہتی ہوں۔‘

ارشد ندیم

،تصویر کا ذریعہFayyaz Hussain Bukhari

ٹیلنٹ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا

پاکستان کے مشہور ایتھلیٹ اعزازی کیپٹن محمد یونس کو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ارشد ندیم نے براہ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔

سنہ 1974 کے تہران ایشیئن گیمز میں 1500 سو میٹرز ریس میں گولڈ میڈل جیتنے والے محمد یونس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نوجوان ایتھلیٹ نے جب اپنا کریئر شروع کیا تو اسے بنیادی سہولتیں میسر نہیں تھیں لیکن ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

72 سالہ محمد یونس کا کہنا ہے ’ارشد ندیم نے گذشتہ چند برسوں کے دوران انٹرنیشنل مقابلوں میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کی محنت انھیں اولمپکس تک لے آئی ہے۔ انھیں ابھی مزید آگے جانا ہے لہٰذا انھیں مستقبل میں بھی اپنی ٹریننگ پر مکمل توجہ رکھنی ہو گی۔‘

محمد یونس کہتے ہیں ’ہمارے وقت سہولتوں کا فقدان تھا خاص کر اس زمانے میں ٹارٹن ٹریک نہیں تھا۔ ہم عام میدانوں میں دوڑ کر ٹریننگ کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب ہم باہر جاتے تھے تو یہ فرق ہماری کارکردگی میں واضح طور پر سامنے آتا تھا۔

’اب سہولتیں پہلے سے بہتر ہیں لیکن ان میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ اچھے انداز میں اجاگر کر سکیں۔‘

محمد یونس نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا ’قومی ایتھلیٹکس کے معاملات کو سیاست سے بچانا ہو گا کیونکہ اس سے سب سے زیادہ متاثر خود کھلاڑی ہوتے ہیں۔ یہ سیاست ہمارے دور میں بھی زوروں پر تھی۔‘

رشید احمد ساقی

،تصویر کا ذریعہCredit Nadeem Qaiser

’ارشد ندیم کے خستہ حال جوتے اب بھی یاد ہیں

ملتان سے تعلق رکھنے والے صحافی ندیم قیصر پاکستان کی ایتھلیٹکس پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان کے خیال میں ارشد ندیم کی کہانی دوسرے کھلاڑیوں کے لیے مثال ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ʹیہ 2012 کی بات ہے جب میں نے پندرہ سالہ ارشد ندیم کو پہلی بار انٹر بورڈ ایتھلیٹکس مقابلوں میں اس حالت میں دیکھا تھا کہ انھوں نے خستہ حال جوتے پہن رکھے تھے جن کے ساتھ جیولن تھرو کرنا ممکن نہ تھا جس کی وجہ سے انھوں نے ننگے پیر گھاس کے میدان میں ہونے والے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔

’مقابلے کےبعد وہ اپنے پیروں سے کانٹے اور دیگر کچرا صاف کر رہے تھے۔ جب میں نے ان کے ٹیلنٹ کی تعریف کی تو انھوں نے معصومیت سے کہا تھا سر، میرے پاس پہننے کے لیے اچھی حالت کے جوتے بھی نہیں ہیں۔‘

ندیم قیصر کہتے ہیں کہ ’ارشد ندیم نے بہت کڑا وقت دیکھا ہے لیکن ان کے حوصلے میں کبھی کمی نہیں آئی اس سلسلے میں ان کے کوچ رشید احمد ساقی نے ان کا ہر قدم پر ساتھ دیا ہے۔

’آج ارشد ندیم جو کچھ بھی ہیں ان میں ساقی صاحب کی محنت اور توجہ کا عمل دخل نمایاں ہے۔‘

ارشد ندیم

،تصویر کا ذریعہFayyaz Hussain Bukhari

،تصویر کا کیپشنارشد ندیم اپنے کوچ فیاض حسین بخاری کے ساتھ

ارشد کی ٹریننگ پر دو کروڑ روپے خرچ: اکرم ساہی

پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) اکرم ساہی کا کہنا ہے کہ ارشد ندیم کی ٹریننگ پر فیڈریشن نے دو کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

اکرم ساہی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹاکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اولمپکس تک رسائی صرف ارشد ندیم کی انفرادی کارکردگی کا نتیجہ ہے اور فیڈریشن کا اس میں عمل دخل نہیں ہے۔

’یقیناً ارشد ندیم کی اپنی محنت بھی موجود ہے لیکن یہ بات بھی لوگوں کو معلوم ہونی چاہیے کہ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے بھی ان کی ٹریننگ اور اولمپکس میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔‘

اکرم ساہی کہتے ہیں ’معاملہ صرف انفرادی کارکردگی کا ہوتا تو پاکستان اپنے قیام کے بعد سے اولمپکس میں حصہ لے رہا ہے تو بہت پہلے ہی نتائج سامنے آجانے چاہییں تھے۔‘

اکرم ساہی کہتے ہیں کہ ’ارشد ندیم اولمپکس میں جا ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ فیڈریشن کے پاس ان کی ٹریننگ کے لیے بھی پیسے نہیں تھے لیکن میں نے ذاتی دلچسپی لے کر سپانسرز وغیرہ کی مدد سے ان کی ٹریننگ کو ممکن بنایا۔

’اس ٹریننگ کے پورے عمل میں دو کروڑ روپے ہم نے خرچ کیے ہیں۔ میں پچھلے کئی برسوں سے کہتا پھر رہا تھا کہ اس نوجوان میں غیر معمولی صلاحیت ہے لیکن اس وقت تو کسی کو پرواہ ہی نہ تھی کہ کون ارشد ندیم اور کون سے اولمپکس؟‘

اکرم ساہی کہتے ہیں کہ ’کووڈ کی صورتحال نے بھی ارشد ندیم کی ٹریننگ کو متاثر کیا۔ ہم نے جب لاہور میں ان کے لیے کیمپ لگایا جس میں ان کے کوچ فیاض حسین بخاری بھی شامل تھے تو ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہمیں بتایا گیا کہ کووڈ کی صورتحال کے سبب یہ دونوں ہاسٹل میں بھی نہیں رہ سکتے لہٰذا ہمیں ان کی رہائش کا بندوبست کسی دوسری جگہ کرنا پڑا بلکہ کچھ دنوں کے لیے ارشد کو ان کے گھر بھیجنا پڑا۔

’ایک بار کسی وی آئی پی ہیلی کاپٹر کی آمد کی وجہ سے گراؤنڈ بند کر کے ارشد کو ٹریننگ سے روک دیا گیا۔‘

اکرم ساہی کا کہنا ہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کو معطل کر رکھا ہے جبکہ اس وقت کارکردگی کے لحاظ سے دیگر کھیلوں کے مقابلے میں ایتھلیٹکس فیڈریشن سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔

انھیں سب سے زیادہ غصہ اس بات پر ہے کہ ان کی فیڈریشن کو تو معطل کر دیا گیا ہے لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ایتھلیٹکس کی جو متوازی کمیٹی بنائی ہے اس کا سربراہ ایک حاضر سروس بریگیڈئر کو بنایا گیا ہے۔

اکرم ساہی جو ایشیئن ایتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر اور ساؤتھ ایشیئن ایتھلیٹکس فیڈریشن کے چیئرمین ہیں کہتے ہیں کہ ’پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کو ہر سال قومی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ پر تقریباً پچاس لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے فیڈریشن کو سالانہ گرانٹ کی مد میں پینتیس لاکھ روپے ملتے ہیں۔

’اس بار اس میں سے بھی پانچ لاکھ روپے کم دیے گئے جبکہ پچھلے سال صرف بیس لاکھ روپے دیے گئے۔ ایسا کیوں کیا گیا اس کا جواب دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔‘