سوشیل کمار: انڈین اولمپک چیمپیئن کو زندگی کی ’مشکل ترین‘ لڑائی کا سامنا

سشیل کمار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسشیل کمار بھارت کے کھیلوں کی اہم شخصیت ہیں
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

چار مئی کی رات کو انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کُشتی کے لیے مشہور سپورٹس سٹیڈیم میں گولیاں چلیں۔

جب پولیس چھتراسل سٹیڈیم پہنچی تو انھیں سٹیڈیم کے باہر پانچ گاڑیاں، ایک شاٹ گن اور ایس یو وی کار کے پچھلے حصے میں تین کارتوس ملے۔ انھیں پارکنگ میں بانس کی لاٹھیاں بھی ملیں جن پرخشک خون تھا۔

پولیس نے بتایا کہ سٹیڈیم میں جھگڑا ہوا جس میں 18 سے 20 افراد شامل تھے۔ تین افراد زخمی ہوئے تھے اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ اس کے کئی گھنٹوں بعد ایک 23 سالہ پہلوان ساگر دھانکر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پولیس نے بتایا کہ جھگڑا کرنے والوں میں انڈیا کے مشہور اور کامیاب پہلوان سوشیل کمار شامل تھے ۔37 سالہ سوشیل کمار انفرادی ایونٹ میں ملک کے لیے دو بار اولمپک تمغہ جیتنے والے اور ریسلنگ ورلڈ چیمپئن شپ جیتنے والے واحد انڈین کھلاڑی ہیں۔

یہ انڈیا جیسے ملک میں ایک غیر معمولی کارنامہ ہے جس نے پچھلی صدی میں اولمپکس میں مجموعی طور پر دو ہی تمغے حاصل کیے تھے۔

سوشیل کے وکیل پردیپ رانا نے مجھے بتایا کہ ان کے موکل ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ رانا نے کہا 'اس وقت پہلوانوں کے دو گروپ آپس میں لڑ رہے تھے۔ جب تک کہ کمار وہاں پر پہنچے وہ بھاگ گئے تھے۔یہاں کوئی عینی شاہد نہیں ہیں۔ کچھ طاقتور لوگ پرانی رنجش کے سبب میرے مؤکل کو اس معاملے میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

سشیل کمار

،تصویر کا ذریعہAFP

سوشیل کمار دہلی کی ریاستی حکومت کے محکمہ کھیل میں ملازم ہیں اور سٹیڈیم کے اندر ایک ہاؤسنگ کمپلیکس میں رہتے ہیں جہاں انھوں نے اپنے سابق کوچ ستپال سنگھ کی زیرِ نگرانی 14 سال کی عمر میں تربیت شروع کی تھی جو اب ان کے سسُر ہیں۔

تین ہفتوں تک پولیس سوشیل کمار کو تلاش کرتی رہی۔ انھوں نے چھاپے مارے اور انھیں پکڑوانے کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا۔ 23 مئی کو کمار کو دہلی کے ایک میٹرو سٹیشن کے باہر گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اب انھیں سٹیڈیم میں جھگڑے سے متعلق قتل، اغوا اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس رات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تلاش میں ہیں۔ میڈیا میں اس طرح کی خبریں تھیں کہ یہ جھگڑا جائیداد کے تنازع کے سبب ہوا تھا جس میں سوشیل شامل تھے اور ساتھ ہی ان کے اور جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان روابط کے دعوے بھی کیے جا رہے تھے۔

چھتراسل سٹیڈیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچھتراسل سٹیڈیم کو ریسلِنگ کا مکہ کہا جاتا ہے

لیکن سوشیل کی گرفتاری نے بقول کچھ لوگو ں کے انڈیا میں کُشتی کی دنیا کے تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے

انڈیا میں ریسلر کو پہلوان کہا جاتا ہے جس کا مطلب ایک مضبوط آدمی۔ اگرچہ اس لفظ کا استعمال عام زندگی میں اکثر کیا جاتا ہے لیکن پہلوانوں پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ نامناسب لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں اور لڑائیوں میں الجھ جاتے ہیں۔

ریسلنگ کے ایک سینیئر کوچ اور سوشیل کے سابقہ ساتھی، کرپا شنکر بشنوئی نے کہا ’ہمارا نام بدنام ہے کیوں کہ انڈیا میں غنڈہ عناصر خود کو پہلوان کہتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ پہلوان گینگسٹر ہیں، جبکہ ہم نہیں ہیں۔'

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انڈیا میں ریسلنگ کا تاریک پہلو بھی ہوتا ہے۔

اکھاڑوں اور دنگلوں میں کشتی پھل پھول رہی ہے۔ خود دہلی میں سینکڑوں اکھاڑے ہیں جو شہر کے مضافاتی محلوں میں واقع ہیں جہاں حریف گروہ جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق معاملات پر لڑتے ہیں۔ دیہات اور چھوٹے شہروں میں مقامی سیاستدان اکثر دنگلوں کو فنڈ دیتے ہیں اور بعض اوقات سیاست دان نوجوان پہلوانوں کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے میں ان کا استعمال کرتے ہیں۔

اس طرح پہلوانوں اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان روابط عام سمجھے جاتے ہیں۔ مقابلوں کے دوران لڑائی جھگڑے ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ایک ریسلنگ کوچ، سکھِوندر مور پر فروری میں ایک حریف کوچ سمیت پانچ افراد کے قتل کا الزام ہے اور وہ مقدمہ چلنے کے منتظر ہیں۔

دہلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندہلی میں بے شمار روائیتی اکھاڑے ہیں

'اینٹر دی دنگل، انڈیا کا ریسلنگ لینڈ سکیپ' کے مصنف رودریل سین گپتا نے کہا مقابلوں کے دوران جھگڑے ہونا عام بات ہے۔ سین گپتا نے اپنی کتاب کی تحقیق کے دوران سات سال تک سوشیل کمار پر ریسرچ کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔

وہ کہتے ہیں ’کمار ایک غریب گھرانے سے تھے اور پہلوانی کی سبب جلدی ہی بلندیوں تک پہنچ گئے۔ ان کے والد بس ڈرائیور تھے اور ان کی والدہ ہاؤس وائف۔ اولمپکس میں کامیابی کے بعد وہ مشہور اور دولت مند بن گئے۔ سین گپتا نے بتایا کہ دوسرے کُشتی سٹارز کی طرح ان کے پاس بھی گاڑیوں کا کارواں، بے شمار نوجوان پہلوان مداح اور لائسنس شدہ بندوقیں ہوتی تھیں۔

’جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اسلحہ کب ساتھ لے کر چلتے ہو تو کمار کا کہنا تھا کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں اور انھیں اکثر شمالی انڈیا کے کئی خراب علاقوں میں دنگل کے لیے جانا پڑتا ہے اور واپسی میں ان کے پاس انعام کی بڑی رقم بھی ہوتی ہے۔'

لوگوں کا کہنا ہے کہ کمار ایک انتہائی محنتی اور ذہین پہلوان تھے، جس نے راہبانہ زندگی گزاری۔ وہ ایک سبزی خور ہیں۔ 66 کلو وزن کے فری اسٹائلر کمار طلوع آفتاب کے ساتھ اٹھتے، کسرت کرتے، اکھاڑے میں مشقت کرتے تھے۔ ریسلنگ کے کوچ بشنوئی نے کہا 'وہ ہمیشہ پریکٹس کے بعد فٹ بال اور باسکٹ بال کے کھیلوں میں بھی پریکٹس کرتا رہتا تھا۔‘

ٹریننگ سینٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسشیل کمار نے نوجوان پہلوانوں کو راغب کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے

کمار نے چھتراسل سٹیڈیم کے کار پارکنگ کے بیکار تہہ خانے کو انڈین ریسلنگ کے ایک روشن اور کارآمد ٹریننگ سینٹر میں تبدیل کرنے میں بھی مدد کی جس سے کُشتی کے سینکڑوں نوجوان راغب ہوئے۔ کشتی کے لیے انڈیا کے تین اولمپکس تمغے کشتی کی اسی زیر زمین نرسری سے آئے ہیں۔

کمار نے ابھرتے ہوئے پہلوانوں کی دیکھ بھال کی جو چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہتے اور سوتے تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب زیادہ تر پہلوان مٹی کے گڑھوں یا اکھاڑوں میں مشق کر رہے تھے انہوں نے میٹس متعارف کروائے۔

سین گپتا کا جنہوں نے 60 سے زیادہ تربیتی سیشنوں میں کمار کے ساتھ وقت گزارا کہنا تھا کہ 'اپنے عروج پر، کمار ایک باوقار اور طاقتور پہلوان تھے۔ وہ تشدد اور ہم آہنگی کا ایک دلچسپ مجموعہ تھا۔ 'میں نے انہیں بہت پرجوش اور مددگار پایا، جو ہمیشہ جوان پہلوانوں کی مدد اور تربیت کرتا تھا۔ میں نے انھیں کبھی بھی اپنا ہوش کھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔'

پھر بھی کمار تنازعوں سے اجنبی نہیں تھے۔ 2016 میں ایک ساتھی پہلوان نرسنگھ یادو نے ریو اولمپکس کے لیے منشیات کے ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد کمار پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے انکے کھانے میں کچھ ملایا تھا۔ نرسنگھ یادو پر چار سال کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ تفتیش کے بعد کمار کو تمام الزامات سےبری کردیا گیا تھا۔

لیکن اب سشیل کمار کو اپنی زندگی کی ممکنہ مشکل ترین لڑائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔