باکسر عامر خان اور حسین شاہ کے درمیان الفاظ کی جنگ: ‘تم نے پاکستان کے لیے کیا کیا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے اولمپک میڈلسٹ باکسر حسین شاہ اور پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان باکسنگ رِنگ کے باہر زوردار زبانی مکوں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلے پر آئے ہیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو یہ یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے لیے کیا کیا ہے۔
الفاظ کی اس جنگ کا پس منظر کیا؟ دراصل عامر خان نے گذشتہ روز صحافیوں سے آن لائن گفتگو کے دوران حسین شاہ کی پاکستانی باکسنگ کے لیے خدمات پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستانی باکسنگ کے لیے کیا کیا ہے؟
عامر خان نے دعوی کیا کہ حسین شاہ نے پاکستان میں نام بنانے کے بعد جاپان میں سکونت اختیار کرلی حالانکہ انھیں پاکستان میں رہ کر پاکستانی باکسرز کو ٹریننگ دینی چاہیے تھی۔
عامر کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ اسلام آباد کی باکسنگ جمنازیئم کو حسین کے نام سے منسوب کیا گیا۔ ان کے خیال میں چونکہ حسین کا تعلق کراچی سے ہے اس لیے وہاں کی اکیڈمی ان کے نام سے منسوب ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حسین شاہ کا جوابی پنچ
حسین شاہ نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے جواب میں عامر خان سے پوچھا کہ انھوں نے خود نے پاکستانی باکسنگ کے لیے کیا کیا۔
ٹوکیو سے بات کرتے ہوئے حسین شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پروفیشنل باکسر کی حیثیت رکھنے والے عامر خان کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ پاکستان کی امیچر باکسنگ کی اصل صورتحال کیا رہی ہے۔
حسین کہتے ہیں کہ برطانیہ میں زندگی گزارنے والے عامر خان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ ماضی میں پاکستان کے امیچر باکسرز نے کن نامساعد حالات میں باکسنگ کی ہے اور ان کے معاشی حالات کیسے تھے۔ ان ہی معاشی حالات کے سبب انھوں نے بیرون ملک کا رخ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ان پر تنقید کرنے سے پہلے عامر خان یہ بتائیں کہ انھوں نے پاکستان کے لیے کیا خدمات سرانجام دی ہیں۔ ‘وہ اپنی زندگی میں پاکستان کے لیے ایک بھی فائٹ نہیں لڑے ہیں۔‘
حسین شاہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے واحد باکسر ہیں جنھیں اولمپکس میں تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔
وہ لگاتار پانچ سیف گیمز مقابلوں میں طلائی تمغے جیتنے والے واحد پاکستانی باکسر ہیں۔ حسین شاہ کہتے ہیں کہ جہاں تک ان کی حب الوطنی کی بات ہے تو انہیں کسی سے اس کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
حسین شاہ بتاتے ہیں کہ جاپان میں رہتے ہوئے بھی ان کا بیٹا شاہ حسین شاہ جوڈو میں پاکستان کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہے حالانکہ وہ جاپان کی نمائندگی کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور اس نے پاکستان کی طرف سے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ، ساؤتھ ایشین گیمز میں دو طلائی تمغے اور ایشین چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا اور اس کے علاوہ اس نے ریو اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔
حسین شاہ نے کہا کہ اسلام آباد میں انڈور جمنازیم ان کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جو حیران کن طور پر اب عامر خان کے نام سے کردیا گیا ہے۔ کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ آخر ان کی ایسی کیا خدمات ہیں جس کی وجہ سے ان پر یہ نوازش کی گئی ہے؟

حسین شاہ سے منسوب جمنازیم کا پس منظر
پاکستان کے سابق انٹرنیشنل ریفری جج علی اکبر شاہ نے بی بی سی اردو کو جمنازیم کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2002 میں بوسان میں منعقدہ ایشین گیمز کے بعد پاکستانی باکسرز نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی تھی۔
جنرل مشرف نے اس موقع پر چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں انڈور جمنازیم کے لیے ایک ایک کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔ اسلام آباد کی اکیڈمی کو حسین شاہ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا، لاہور کی اکیڈمی سید محمد غزنوی، پشاور کی لالہ امان اللہ خان، کوئٹہ کی سید ابرار حسین اور کراچی کی اکیڈمی کو پروفیسرانورچوہدری کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
علی اکبر شاہ کہتے ہیں کہ اس ملاقات میں اس وقت کے کھیلوں کے نگراں وفاقی وزیر کرنل ٹریسلر اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈئر صولت عباس بھی موجود تھے۔
علی اکبر شاہ نے کہا کہ 2004 میں پروفیسر انور چوہدری نے عامر خان سے کہا تھا کہ وہ ایتھنز اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کریں لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا اور برطانیہ کی نمائندگی کو ترجیح دی تھی۔
ان کے چھوٹے بھائی ہارون خان نے مجبوراً پاکستان کی نمائندگی 2010 کے کامن ویلتھ گیمز میں کی تھی کیونکہ وہ برطانیہ کی طرف سے اولمپکس میں حصہ نہیں لے پا رہے تھے لہٰذا انھوں نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا۔








