20 برس پہلے کے تمغے کی یادیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی باکسر حسین شاہ کو اولمپکس میں تمغہ جیتے بیس سال ہوگئے ہیں لیکن طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود آج بھی جب اولمپکس کا وقت آتا ہے تو انہیں کانسی کا وہ تمغہ یاد آجاتا ہے جو انہوں نے1988ء کےاولمپکس میں جیتا تھا۔ حسین شاہ یہ کہنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ اس اولمپک میڈل اور جہانگیرخان نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔ تیرہ سال سے اپنے خاندان کے ساتھ جاپان میں خوش وخرم زندگی بسر کرنے والے حسین شاہ نے بی بی سی کو بتایا’ پاکستان میں میری زندگی بہت خراب گزر رہی تھی کیونکہ میں پڑھا لکھا نہیں تھا کہ اپنا نام بھی لکھ سکوں لیکن سیول اولمپکس میں تمغہ جیتنے کے بعد جہانگیرخان کی شکل میں اللہ نے وسیلہ فراہم کردیا جو مجھے اپنے خرچ پر انگلینڈ لے گئے اور خالد جاوید اور سابق عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن لینکس لوئس سے جو ان کے دوست تھے کہہ کر مجھے پروفیشنل باکسنگ میں شامل کرادیا۔ میں نے انگلینڈ میں چند پروفیشنل باؤٹس میں حصہ لیا پھر امریکہ چلاگیا اور پھر جاپان آگیا۔ راستہ جہانگیر بھائی نے دکھایا تھا، کوشش میں نے کی اور آج میں اپنی زندگی سے مطمئن اور خوش ہوں۔‘
حسین شاہ کہتے ہیں ’ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں اولمپک میڈل جیت کر وطن واپس آیا تھا تو ایئرپورٹ پر مجھے پھولوں سے لاد دیا گیا تھا۔ ڈھول تاشوں سے میرا زبردست استقبال ہوا تھا اور اس کے بعد تقریبات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ وہ تمغہ میرے جیتے ہوئے تمام تمغوں میں سب سے قیمتی ہے جو میں نے بہت سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ جب اولمپکس آتے ہیں تو میرے جاپانی کلب کے ساتھی مجھے بیس سال پہلے کی کامیابی یاد دلاتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے‘۔ حسین شاہ اس وقت جاپانی کلب کادو ایبی کے کوچنگ اسٹاف میں شامل ہیں۔ اس کلب کا ایک باکسر حال ہی میں ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کا لائٹ ویٹ عالمی چیمپئن بنا ہے۔اس سے قبل بھی اسی کلب کے ایک باکسر نے ورلڈ ٹائٹل حاصل کیا تھا۔
جب حسین شاہ سے یہ سوال کیا گیا کہ ان کے ایک ساتھی باکسر ابرارحسین اپنی اور دیگر باکسرز کی کامیابیوں پر شک کر رہے ہیں کہ یہ شاید پروفیسر انور چوہدری کے اثرورسوخ کا نتیجہ تھیں تو حسین شاہ نے اسے تاثر کو یکسر مسترد کردیااور کہنے لگے’سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابرارحسین نے تین اولمپکس میں حصہ لیا۔ میں نے بھی کئی سال تک بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی دوسرے بھی کئی باکسرز تھے اگر پروفیسر انورچوہدری ہی نے تمغے جتواکر دینے تھے تو اولمپکس میں پاکستان ایک سے زائد تمغے کیوں نہیں جیت سکا؟ درحقیقت پروفیسر انورچوہدری کے آئبا کا صدر ہونے کا پاکستان کو صرف یہ فائدہ ہوا کہ پاکستانی باکسرز کے ساتھ کوئی بھی بے ایمانی یا گڑبڑ کرنے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔‘ حسین شاہ پاکستانی باکسرز کی ناکامی کی بڑی وجہ انہیں بین الاقوامی سطح پر ملنے والے برائے نام مواقعوں کو قرار دیتے ہیں ’ہمارے زمانے میں پاکستان میں بھی متعدد انٹرنیشنل ٹورنامنٹس ہوتے تھے اور پاکستانی باکسرز بیرون ملک بھی جاتے تھے۔ پاکستانی باکسرز کو اب بھی ٹریننگ کے لئے کیوبا اور روسی ریاستوں میں بھیجا جاتا ہے لیکن انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں کم شرکت سے ان کی اولمپکس کی تیاری پر اثر پڑا ہے۔ ‘ حسین شاہ پاکستانی باکسنگ کا مستقبل بہت زیادہ اچھا نہیں دیکھ رہے ہیں’باکسرز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور کچھ بن کر دکھائیں۔اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو پاکستان میں باکسنگ ختم ہوجائے گی لیکن مجھے یہ سن کر بھی افسوس ہورہا ہے کہ پاکستانی باکسرز میں ممنوعہ قوت بخش ادویات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جو انتہائی خوفناک بات ہے ۔‘ |
اسی بارے میں پاکستان،اولمپک باکسنگ ناک آؤٹ08 August, 2008 | کھیل پاکستانی ہاکی ٹیم ایک اور ناکامی15 August, 2008 | کھیل اولمپکس میں پاکستان کا سفر09 August, 2008 | کھیل اولمپکس:بھارتی کارکردگی کی تاریخ08 August, 2008 | کھیل اولمپک میں افغانستان کا خواب07 August, 2008 | کھیل بیجنگ میں مشعل کا سفر شروع06 August, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||