سمیع چوہدری کا کالم: ’شکر ہے، کرائسٹ چرچ ٹیسٹ ختم ہو گیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
خوف، یقین، حیرت اور بے یقینی کا ملغوبہ دیکھنا ہو تو اس ٹیسٹ میچ کی فقط جھلکیاں ہی دیکھ لیجیے جو آج بالآخر کرائسٹ چرچ میں ختم ہو ہی گیا۔ جس طرح سے میچ دوسرے اور تیسرے دن چلا، پاکستان کے لیے یہ ایسا پہاڑ بن چلا تھا کہ نجانے ختم کب ہو گا۔
پہلے دن پاکستانی ٹیم میں یقین، ہمت اور مزاحمت دکھائی دی۔ بیٹنگ بہت دشوار تھی اور ابتدائی خسارے کے بعد جیسے اظہر علی اور محمد رضوان نے باقاعدہ لڑائی لڑی، اس نے امیدوں کو بڑھاوا دیا۔
یہی امیدیں اگلی صبح بولنگ میں کام آئیں اور پاکستان نے دو سیشن تک بہترین بولنگ کی۔ لنچ سے پہلے رضوان نے شان مسعود کو اوور دے کر جو داؤ کھیلا، اس نے میچ پر پاکستان کی گرفت ڈھیلی کرنا شروع کی۔
یہ بھی پڑھیے
اس پر فیلڈنگ کے کمالات نے جو تڑکا لگایا، اس کے بعد پاکستان کے روگ میں اضافہ تو ہونا ہی تھا۔ نوجوان بولنگ اٹیک کو دباؤ میں آتے دیر نہیں لگتی اور ولیمسن سزا کے تازیانے برساتے چلے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انگلش اور کیوی کنڈیشنز میں جب مطلع ابر آلود ہو اور گیند سیم ہو رہا ہو تو سلپ اور گلی میں فیلڈنگ آسان نہیں ہوتی۔ فیلڈر کے لیے گیند کی ٹریجیکٹری کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے مگر ٹیسٹ چیمپئین شپ کا خواب دیکھنے والی ٹیم کو اس ہنر میں اتنا بھی پست نہیں ہونا چاہیے کہ آٹھ کیچز ڈراپ کر بیٹھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد عباس کی فارم پہلے سی نہیں رہی اور یہ بات واضح ہوئے بھی دو سیریز گزر چکیں مگر اس بارے کوئی منصوبہ ساز ابھی تک حکمتِ عملی نہیں لا پایا۔ ادھر شاہین شاہ تو اپنے حصے کا کام نبھا رہے ہیں مگر نسیم شاہ کب تک نو عمری اور ناتجربہ کاری کی اوٹ میں چھپتے رہیں گے؟
کیونکہ نسیم شاہ کی شکل میں کیے گئے تجربے کا اثر محمد عباس کی کارکردگی تک تو جا پہنچا ہے۔ اب یہ انتظامیہ سوچے کہ کب تک نسیم شاہ کی سنسنی خیزی کو کیش کروانا ہے اور کب انہیں پھر سے فرسٹ کلاس کی سکولنگ میں بھیجنا ہے۔
اس دورے پر نسیم شاہ پاکستانی بولنگ یونٹ کا ایسا کمزور لنک ثابت ہوئے ہیں کہ اگر فہیم اشرف جیسا قابلِ اعتماد پانچواں بولر میسر نہ ہوتا تو نتیجہ پہلے ٹیسٹ کا بھی مختلف نہ ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی طرح فہیم اشرف نے بیٹنگ یونٹ کی لاج بھی رکھ لی ورنہ شان مسعود بھی ذہنی طور پر اس دورے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ حالیہ انگلینڈ کے دورے پہ ان کی سینچری نے بہت سُوں کو امید بندھائی تھی کہ بس اب شان کا وقت آ گیا ہے مگر افسوس کہ یہ وعدہ بھی تشنۂ وفا رہا۔
فواد عالم تو ایک قابلِ قدر سینچری بنا کر اپنے انتخاب کی توجیہہ لے آئے مگر حارث سہیل کا قضیہ بھی شان مسعود سے مختلف نہیں۔ دونوں کا المیہ یکساں ہے کہ چوتھے سٹمپ سے اندر آتے گیند پر کیا کریں۔
ولیمسن اپنے کریئر کی بہترین فارم میں ہیں اور ان کے ساتھ ان کی ٹیم بھی اپنا بہترین وقت گزار رہی ہے۔ اگر کوئی یہ امید کر رہا تھا کہ پاکستان یہ سیریز جیت کر آئے گا تو یقیناً یہ ناجائز خواہشات کے زمرے میں آتا ہے۔
لیکن جس طرح کی لڑائی پاکستان نے لڑی، اس سے بہت بہتر لڑی جا سکتی تھی۔ انھی محدود وسائل میں رہتے ہوئے بھلے جنگ جیتی نہ بھی جا سکتی، مقابلے کا معیار کہیں بہتر ہو سکتا تھا۔













