پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ دوسرا ٹیسٹ: پہلے روز پاکستان آل آؤٹ، لیکن سوشل میڈیا پر بلے بازوں کی مثبت بیٹنگ کی تعریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان کی پوری ٹیم 297 رنز پر آل آؤٹ تو ہو گئی لیکن پاکستانی بلے بازوں کی مثبت بیٹنگ پر سوشل میڈیا صارفین خاصے خوش ہیں۔
کرائسٹ چرچ کے ہیگلی اوول کرکٹ گراؤنڈ میں جاری میچ کے پہلے روز نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور پہلے ہی سیشن میں کھانے کے وقفے سے قبل چار پاکستانی کھلاڑیوں کو کیوی بولرز نے پویلین راہ دکھا کر ان کا یہ فیصلہ درست ثابت کیا۔
دونوں کی ٹیموں کی جانب سے اپنی ٹیموں میں تبدیلیاں کی گئیں۔ پاکستان نے لیگ سپنر یاسر شاہ کی جگہ لیف آرم سپنر ظفر گوہر کو ٹیم میں جگہ دی، جبکہ نیوزی لینڈ کے زخمی بولر نیل ویگنر کی جگہ میٹ ہینری جبکہ مچل سینٹنر کی جگہ سپنر ڈیرل مچل کو جگہ دی۔
پاکستان کے اوپنرز نے ایک مرتبہ پھر مایوس کیا، اور نمبر 4 پر کھیلنے والے حارث سہیل بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا پائے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شان مسعود صفر، عابد علی 25، حارث سہیل ایک اور فواد عالم دو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
ایسے میں سینیئر بلے باز اور پاکستان کے سابق کپتان اظہر علی نے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور مثبت بیٹنگ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر سے کہیں صرف 200 رنز سے بھی کم پر آؤٹ نہ ہو جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا بھرپور ساتھ دینے کے لیے وکٹ کیپر اور موجودہ کپتان محمد رضوان بھی کریز پر جمے رہے اور صرف 71 گیندوں پر 61 رنز بنا کر اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان نیوزی لینڈ کی نپی تلی بولنگ کے سامنے کم ٹوٹل پر ڈھیر نہ ہو سکے۔ اظہر علی 12 چوکوں کی مدد سے 93 رنز بنائے اور وہ ہینری کی ایک اچھی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے باوجود پاکستان کے آل راؤنڈرز نے بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور فہیم اشرف نے 48 جبکہ ظفر گوہر نے 34 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔
نیوزی لینڈ کے بولر کائل جیمیسن نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ ساؤتھی اور بولٹ نے دو دو کھلاڑوں کو آؤٹ کیا۔
میچ کے دوران ایک موقع پاکستان کی رنز بنانے کی اوسط چار رنز فی اوورز سے بھی زیادہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ZAbbasOfficial
اس حوالے سے اکثر صارفین نے ڈیبیو کرنے والے ظفر گوہر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انھوں نے آتے ہی جس خوبصورتی سے بیٹنگ کی ہے اور کوور ڈرائیوز کھیلی ہیں یہ انتہائی خوش آئند ہے۔
ٹی وی پریزینٹر زینب عباس کا کہنا تھا کہ گو ظفر گوہر ایک اچھی گیند پر آؤٹ ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے انتہائی بہترین اننگز کھیلی ہے، قیمتی رنز کا اضافہ کیا۔
ایک صارف نے اظہر علی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ایک موقع پر جب 83 رنز پر چار آؤٹ ہو گئے تھے، لیکن اظہر علی کی ایک مشکل پچ پر عمدہ بیٹنگ کے باعث پاکستان ایک مستحکم پوزیشن میں آ گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد یونیائٹڈ کے مینیجر اور کرکٹ پر تجزیے و تبصرے کرنے والے حسن چیمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک سیشن میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر چار سے زیادہ کی اوسط سے 135 رنز سکور کیے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں اس حوالے سے کیا ردِ عمل دوں۔ بس اس بات کاافسوس ہے کہ جب پاکستان بلے باز تیز کھیل رہے تھے تو تب سب سو رہے تھے۔













