شرجیل خان پاکستانی ٹیم میں واپسی کے کتنے قریب ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کیا شرجیل خان ایک بار پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے، شائقین کی دلچسپی اب اسی سوال میں ہے۔
شرجیل خان سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں ڈھائی سالہ پابندی مکمل ہونے کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں واپس آئے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں انھوں نے پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی لیکن ظاہر ہے خود ان کا اصل ہدف بین الاقوامی کرکٹ ہے۔
شرجیل خان کے لیے پاکستان سپر لیگ اگرچہ بہت زیادہ کامیاب نہیں رہی لیکن ڈھائی سال کرکٹ سے دور رہنے کے بعد انھیں جس اعتماد کی ضرورت تھی اسے وہ بڑی حد تک بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں انھوں نے پانچ چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 74 رنز بنائے۔ جن اننگز میں وہ بڑا اسکور نہ کرسکے، ان میں بھی ان کے مخصوص جارحانہ انداز کی جھلک دیکھنے میں ضرور آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شرجیل خان پاکستان سپر لیگ کے پانچویں سیزن میں مجموعی طور پر 16 چھکے لگانے میں کامیاب ہوئے جو کرس لِن اور شین واٹسن کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ چھکے تھے۔ سب سے زیادہ 23 چھکے بین ڈنک نے لگائے تھے۔
’چھ بار صفر پر آؤٹ ہوجاؤ تب بھی کھیلو گے‘
پاکستان سپر لیگ کے دوران کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم سے پریس کانفرنس میں متعدد بار شرجیل خان کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے اور ہر بار ان کے جوابات کا نچوڑ صرف یہی رہا کہ انھیں شرجیل خان کی صلاحیتوں پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے، وہ ایک میچ ونر کھلاڑی رہے ہیں، اور بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے بالکل تیار ہیں اور یہ سلیکٹرز پر منحصر پر ہے کہ وہ انھیں کب موقع فراہم کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عماد وسیم کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل سے پہلے پریکٹس میچوں میں ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ شرجیل خان کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
جب کوئی کھلاڑی دو تین سال بعد بڑی کرکٹ میں واپس آتا ہے تو اس کے لیے صورتحال آسان نہیں ہوتی اور جب کوئی کھلاڑی ایک میچ کے بعد اگلے میچ میں ڈراپ ہوجائے تو اس کا اعتماد نیچے چلا جاتا ہے اسی لیے انھوں نے شرجیل خان کو بٹھا کر یہ کہا تھا کہ تم چھ بار صفر پر آؤٹ ہوجاؤ تب بھی ساتواں میچ کھیلو گے۔
’شرجیل کی واپسی پر حفیظ ناخوش‘
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے کرکٹر محمد حفیظ کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے جنھوں نے شرجیل خان کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا اور ان کی ممکنہ واپسی پر سوال اٹھایا تھا۔
وسیم خان نے کہا ہے کہ محمد حفیظ کو چاہیے کہ وہ اپنی کرکٹ پر توجہ دیں بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے کے بارے میں رائے دیں۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ محمد حفیظ نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث کسی کرکٹر کی ممکنہ واپسی پر سوال اٹھایا ہے۔ اس سے قبل 2015 میں جب فاسٹ بولر محمد عامر کی پاکستانی ٹیم میں واپسی ہوئی تھی تو محمد حفیظ اور اظہر علی نے قومی کیمپ میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔
وسیم خان نے شرجیل خان کو بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں واپس آنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو انھیں اپنی فٹنس پر کام کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان سپر لیگ کھیلتے وقت وہ ان فٹ تھے۔ اب ان کے پاس چند ماہ ہیں لہٰذا انہیں اپنی فٹنس پر بھرپور توجہ دینی ہوگی۔
واپسی آسان نہیں ہوگی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کے خیال میں شرجیل خان کی پاکستانی ٹیم میں واپسی اتنی آسان نہیں ہوگی لیکن اس واپسی کا تمام تر انحصار پاکستان کرکٹ بورڈ اور چیف سیلیکٹر مصباح الحق پر ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث فاسٹ بولر محمد عامر کی واپسی نے ایک مثال قائم کر دی ہے کہ کوئی بھی سزا یافتہ کرکٹر واپس آسکتا ہے، لہٰذا شرجیل خان کی بھی واپسی ہوسکتی ہے۔
راشد لطیف کے خیال میں شرجیل خان کی فٹنس ان کی واپسی میں اہم نکتہ ہوگی کہ وہ خود کو کتنا فٹ کرتے ہیں لیکن اگر وہ پاکستانی ٹیم میں واپس آجاتے ہیں تو بابر اعظم کے ساتھ ان کی جوڑی بہت مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
شرجیل خان کا بین الاقوامی کریئر
شرجیل خان نے 2009 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز حیدرآباد کی طرف سے اسلام آباد کے خلاف سنچری کے ساتھ کیا تھا۔فرسٹ کلاس کرکٹ میں وہ 11 سنچریاں بنا چکے ہیں۔
شرجیل خان اب تک ایک ٹیسٹ، 25 ون ڈے انٹرنیشنل اور 15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
ون ڈے انٹرنیشنل میں وہ پاکستان کی طرف سے چوتھی بڑی اننگز کھیلنے والے بیٹسمین ہیں
ان کے کریئر کا اہم موقع وہ تھا جب 2017 میں انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں تین نصف سنچریاں بنائیں۔
یہ وہ وقت تھا جب انگلش کاؤنٹی لیسٹر شائر نے ان سے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اسی طرح بگ بیش کے دروازے بھی ان پر کھلنے والے تھے لیکن سپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے سب کچھ ہی بدل ڈالا۔











