شمالی کوریا میں ہار کا کیا انجام ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا جیسے ملک میں جہاں ملکی وقار کو ہی سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے وہاں کسی کھلاڑی کا اولمپکس میں شرکت کرنا کسی پہیلی سے کم نہیں ہے۔
اولمپکس میں جیتنے والے کھلاڑیوں کو ملک اور سیاسی رہنماؤں کے اعزاز کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کی ہار حکومت اور انتظامیہ کا رویہ بالکل تبدیل کردیتی ہے اور یہ شکست اس وقت اور دردناک ہو جاتی ہے جب وہ کسی دشمن ملک کے کھلاڑی کے ہاتھوں ملی ہو جیسا کہ جاپان، امریکہ یا شمالی کوریا۔
شمالی کوریا میں جیتنے والوں کی بہت حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اگر یہ جیت اولمپکس کے میدان میں ہو تو انعامات کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہے جیسے کار، گھر اور دیگر بڑے بڑے تحائف۔ جیتنے والوں کی جیت کا جشن منایا جاتا ہے، مارچ کیا جاتا ہے اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کامیابی شمالی کوریا کی حکومت اور ان کے رہنماؤں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
لیکن جب کوئی کھلاڑی ہار جاتا ہے تو اس کا کیا ہوتا ہے؟
شمالی کوریا میں ایسی باتیں اکثر سننے میں آتی ہیں کہ جب کوئی کھلاڑی ہار جاتا ہے تو اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے حالانکہ اس بات کے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمالی کوریا کی نیوز ویب سائٹ این کے نیوز کے تجزیہ نگار فیدر ٹیٹرسکی کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں میں کھلاڑیوں کی شکست کے حوالے سے یہاں نظریہ تبدیل ہوا ہے۔ ملک کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر ہارنے والے کھلاڑیوں کو کنسنٹریشن کیمپ میں ڈال دیا جائے گا تو کھلاڑیوں کی کمی ہو جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1990 میں بیجنگ ایشیائی کھیلوں میں جوڈو کے ایک کھلاڑی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے بعد میں بتایا تھا کہ اس ہار کے بعد انھیں کوئلے کی کان میں بھیج دیا گیا تھا۔
شمالی کوریا میں عام طور پر کھیلوں کے مقابلے براہ راست نشر نہیں کیے جاتے اور یہ بات اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب کسی کھیل میں اسے شکست کا سامنا رہا ہو۔

،تصویر کا ذریعہReuters
2014 کے ایشیائی کھیلوں میں شمالی کوریا کے مردوں کی فٹبال ٹیم فائنل میں پہنچ چکی تھی جہاں ان کا مقابلہ جنوبی کوریا سے تھا۔ اس میچ سے پہلے ہی شمالی کوریا میں جیت کی امیدوں سے بھر پور ماحول بنایا گیا لیکن آخر میں مقابلہ صفر کے مقابلے ایک گول سے جنوبی کوریا کامیاب رہا۔ شمالی کوریا نے اس میچ کی خبر تک جاری نہیں کی۔
بی بی سی مانیٹرنگ میں شمالی کوریا کے تجزیہ نگار ایلیسٹر کولمین کا کہنا ہے کہ اس میچ کا نتیجہ کبھی سامنے نہیں آیا۔ شمالی کوریا کے عام لوگوں سے لے کر سرکاری میڈیا تک کو نہیں معلوم تھا کہ اس میچ میں کیا ہوا۔
حال ہی میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے کہ شمالی کوریا فروری میں ہونے والے ونٹر اولمپکس میں شرکت کر سکتا ہے۔ یہ کھیل اس لیے بھی دلچسپ ہیں کیونکہ ان کا اہتمام جنوبی کوریا میں کیا جا رہا ہے۔ اگر شمالی کوریا ان کھیلوں میں شرکت کرتا ہے تو جنگ کے دہانے پر کھڑے ان دونوں ملکوں کے درمیان جمی برف پگھلنے کی کچھ امید پیدا ہوسکتی ہے۔









