شمالی کوریا: 'جیل میں مجھ سے دوسرے لوگوں کی لاشیں دفن کروائی گئیں‘

- مصنف, نتن شریواستو
- عہدہ, بی بی سی، جنوبی کوریا
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس پر برف کی چادر پھیلی ہوئی ہے۔
یہاں اب درجہ حرارت منفی 10 ڈگری تک پہنچ چکا ہے اور سڑکوں پر بمشکل کوئی نظر آتا ہے۔
ہمارا سفر ایک تہہ خانے نما کمرے والے اپارٹمنٹ میں ختم ہوتا ہے۔
دروازے پر لگی گھنٹی کا جواب ایک 48 سالہ خاتون نے دیا اور ڈرتے ہوئے ہمارے شناختی کارڈ دیکھے۔
یہ بھی پڑھیے
بیٹھنے کے لیے زمین پر بستر بچھا ہوا تھا۔ کمرے میں باورچی خانہ بھی ہے اور باتھ روم کا دروازہ بھی وہیں کھلتا ہے۔
می ریونگ (فرضی نام) 15 سال قبل شمالی کوریا میں ایک پلاسٹک فیکٹری کی سربراہ تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی بہن کے اہل خانہ بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچے اور ٹی وی پر انٹرویو دیا، جس کے رد عمل کی زد میں شمالی کوریا میں ان کا خاندان آ گيا۔ ان کی زندگی جیلوں اور چین کے گرجا گھروں میں روپوشی میں گزری۔
بیٹی وہیں رہ گئی

می ریونگ بات کرتے ہوئے رو پڑیں۔
انھوں نے کہا: 'جیل میں مار کھائی، مجھ سے دوسروں کی لاشیں دفن کروائی گئیں اور دو سال بعد باہر آنے پر میری طلاق کروا دی گئی۔ میری بیٹی وہیں رہ گئی اور میں بھاگ کر چین آ گئی‘۔
کئی برسوں تک چین میں روپوش رہنے کے باوجود میں شمالی کوریا میں غربت میں زندگی بسر کرنے والی اپنی بیٹی کو وہاں سے نہیں نکال سکی۔
جنوبی کوریا میں آباد ان کی بہن انھیں کسی طرح وہاں لانے میں کامیاب ہوئیں اور پھر پناہ حاصل کرنے کا طویل عمل شروع ہوا۔
می ريانگ نے بتایا: 'ایک ریستوراں میں 15 گھنٹے روزانہ کی نوکری کرنے لگی تاکہ رہنے کے لیے سر پر چھت مل جائے۔ اس طرح کا مشکل کام کرنے کی عادت نہیں تھی۔ اس دوران دل کا دورہ پڑا اور مہینوں بستر پر گزارنا پڑے۔ کمانے کے راستے بند ہو رہے تھے اور جنوبی کوریا میں پیٹ بھرنا مشکل ہو گیا تھا۔ پھر عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کا کام شروع کیا۔ اس میں بہت ذلت ہوتی ہے اور برا سلوک برداشت کرنا پڑتا ہے، لیکن اپنی بیٹی اور پیسے اکٹھے کرنے کے لیے یہ سب برداشت کرتی ہوں۔ بیٹی اب تک شمالی کوریا نام کے جہنم میں پھنسی ہوئی ہے۔'
شمالی کوریا سے بھاگنے والوں کی تعداد بہت ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1953 میں کوریائی جنگ کے بعد شمالی کوریا سے جنوبی کوریا بھاگ کر آنے والوں کی تعداد تقریباً 30 ہزار ہے۔
وہ کم خاندان کی دہائیوں سے جاری حکومت کی دردناک یادیں بھلانا چاہتے ہیں اور نئی زندگی کی امید میں جیتے ہیں۔
غیر قانونی طور پر چین کے راستے آنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور جنوبی کوریا آمد پر انھیں پوچھ گچھ کے طویل سلسلے سے گزرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اطمینان بخش جواب حاصل کرنے کے بعد ہی ان کی آبادکاری کا کام شروع ہوتا ہے۔
وہاں سے بھاگ کر آنے والوں میں لاچاری اور تاسف کے ساتھ غصہ بھی ہے کیونکہ ان کے قریبی رشتے دار شمالی کوریا میں خطرات سے دو چار ہیں اور ان کے مطابق انھیں بدتر حالات کا سامنا ہے۔

اسی دوران مون می ہوا جیسی خواتین نے انھیں شمالی کوریا سے نکالنے کی مہم جاری رکھی ہے۔
مون می ہوا کے شوہر شمالی کوریا کی فوج میں افسر تھے۔ خاندان میں سب کچھ ٹھیک تھا۔
سنہ 1990 کی دہائی کی قحط سالی میں ان کا خاندان بھی مشکلات سے دو چار ہوا۔
'واپس نہیں جانا چاہتی'
می ہوا کے مطابق دارالحکومت پیانگ یانگ سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر آباد ان کے شہر ہیورونگ سی میں کھانے کی قلت ہو رہی تھی اور اس کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی۔

اپنی بیٹیوں کے ساتھ ملک چھوڑنے کے بعد من ہوا نے لاؤس میں جنوبی کوریائی سفارت خانے میں پناہ لی۔
انھوں نے بتایا: 'میری ایک بیٹی سرحد پار کرتے ہوئے کھو گئی۔ بھاگنے کے بعد شوہر کو نوکری سے نکال دیا گیا اور ان کے بھائی نے جعلی کاغذات بنوا کر انھیں بچا رکھا ہے۔ وہاں انسان کی کوئی قدر نہیں، سب روبوٹ بن چکے ہیں۔ اگرچہ یہاں میری بیٹیاں چھوٹے ہوٹلوں میں کام کرتی ہیں اور ہمیں یہاں (جنوبی کوریا میں) برابری کا درجہ حاصل نہیں ہے پھر بھی میں واپس نہیں جانا چاہتی۔'
حالیہ برسوں میں، شمال سے بھاگنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن یہ اب بھی جاری ہے۔ بھاگ کر آنے پر بھی کچھ چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔

اوکنیم چنگ جنوبی کوریا کی رکن پارلیمان ہیں اور شمالی کوریا کی پناہ گزین کمیٹی کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔
انھوں نے کہا: 'ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ شمالی کوریا سے بھاگ کر آنے والوں کو اپنے جمہوری معاشرے کا حصہ بنائیں۔ لیکن دقت یہ ہے کہ پانچ چھ دہائیوں میں ان کی سوچ ایسی بنا دی گئی ہے کہ اسے تبدیل کرنا آسان نہیں۔ جنوبی کوریا میں ان کے نظریات کے لوگ بھی نہیں ہیں، لہذا ان کو سماج میں گھلنے ملنے میں وقت لگتا ہے۔'
دوسری جانب شمالی کوریا سے جنوبی کوریا بھاگ کر پہنچنے والے زیادہ تر افراد اب بھی پرانی یادوں کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔
می ريونگ نے رخصت کرتے وقت کہا تھا: 'میں جنوبی کوریا کے ہر شہر میں نہیں رہ سکتی کیونکہ برے تجربے آسانی سے بھلائے بھی تو نہیں جاتے۔'










