نو سیکس پلیز، ہم مادہ مچھلیاں ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مچھلیوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو کہ صرف مادہ مچھلیوں پر مشتمل ہے اور بغیر کسی نر مچھلی کے گزشتہ ستر ہزار سال موجود ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایمازون مولی نامی اس مچھلی کی قسم ناپید ہونے سے بچنے کے لیے خاص طرح کی جینیاتی تدابیر کرتی ہے۔ ٹیکساس اور میکسیکو میں پائی جانے والی اس مچھلی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دوسری اقسام کی نر مچھلیوں کے ساتھ رہ کر تولید کے عمل کو آگے بڑھاتی ہے۔ ان سے پیدا ہونے والے بچے ہو بہو اپنی ماں کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں نر مچھلی کے ڈی این اے کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔ ایڈنبرگ یونیورسٹی میں سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ ایمازون مولی یہ کس طرح کر پاتی ہے۔ یونیورسٹی کے سکول آف بائیولوجیکل سائنسز کے ڈاکٹر لارنس لوئی کہتے ہیں کہ اس مچھلی میں خاص بات ہے جو اس کو ناپید ہونے سے بچاتے ہیں۔ ’ہو سکتا ہے کہ یہ اجنبیوں سے کبھی کبھی ملاپ کرتی ہو جس سے یہ قسم بچی رہی ہے۔ مستقبل کی تحقیق اس پر مزید روشنی ڈالے گی۔‘ | اسی بارے میں ’شارک جنسی فعل کی محتاج نہیں‘23 May, 2007 | نیٹ سائنس عالمی حدت سے آبی مخلوق کو خطرہ16 February, 2008 | نیٹ سائنس ملیریا سے بچاؤ، مچھلی کے ساتھ09 August, 2007 | نیٹ سائنس ’پرانہا زیادہ خطرناک نہیں‘03 July, 2007 | نیٹ سائنس ٹونا کے ’ناپید ہونے‘ کا خدشہ22 January, 2007 | نیٹ سائنس سمندری مچھلیوں کے ’صرف 50 سال‘03 November, 2006 | نیٹ سائنس گوشت و مچھلی کا شوق وراثت میں14 June, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||