BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 April, 2008, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نو سیکس پلیز، ہم مادہ مچھلیاں ہیں
ایمازون مولی مچھلی
ایمازون مولی نامی اس مچھلی کی قسم میں نر موجود ہی نہیں ہے
مچھلیوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو کہ صرف مادہ مچھلیوں پر مشتمل ہے اور بغیر کسی نر مچھلی کے گزشتہ ستر ہزار سال موجود ہے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایمازون مولی نامی اس مچھلی کی قسم ناپید ہونے سے بچنے کے لیے خاص طرح کی جینیاتی تدابیر کرتی ہے۔

ٹیکساس اور میکسیکو میں پائی جانے والی اس مچھلی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دوسری اقسام کی نر مچھلیوں کے ساتھ رہ کر تولید کے عمل کو آگے بڑھاتی ہے۔

ان سے پیدا ہونے والے بچے ہو بہو اپنی ماں کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں نر مچھلی کے ڈی این اے کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی میں سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ ایمازون مولی یہ کس طرح کر پاتی ہے۔

یونیورسٹی کے سکول آف بائیولوجیکل سائنسز کے ڈاکٹر لارنس لوئی کہتے ہیں کہ اس مچھلی میں خاص بات ہے جو اس کو ناپید ہونے سے بچاتے ہیں۔

’ہو سکتا ہے کہ یہ اجنبیوں سے کبھی کبھی ملاپ کرتی ہو جس سے یہ قسم بچی رہی ہے۔ مستقبل کی تحقیق اس پر مزید روشنی ڈالے گی۔‘

اسی بارے میں
عالمی حدت سے آبی مخلوق کو خطرہ
16 February, 2008 | نیٹ سائنس
ٹونا کے ’ناپید ہونے‘ کا خدشہ
22 January, 2007 | نیٹ سائنس
سمندری مچھلیوں کے ’صرف 50 سال‘
03 November, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد