’شارک جنسی فعل کی محتاج نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ مادہ ہیمر ہیڈ شارک جنسی عمل کے بناء بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اس بات کا ثبوت نبراسکا کے ہنری ڈارل چھڑیا گھر میں موجود ایک شارک کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کے تفصیلی معائنے کے بعد ملاہے۔ یہ بچہ سنہ 2001 میں پیدا ہوا تھا اور اس سے قبل مادہ شارک کا کسی نر سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ ایک سائنسی جریدے کے مطابق بلفاسٹ ، نبراسکا اور فلوریڈا کے سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے جینیاتی تجزیوں نے اس بات کی حتمی طور پر تصدیق کی ہے کہ اس بچے میں باپ کی جانب کا کوئی ڈی این اے موجود نہیں۔ بناء جنسی فعل کے تولید کی صلاحیت اس سے قبل’بونی فش‘ میں دیکھی گئی ہے لیکن شارک جیسی مچھلیوں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اس طریقۂ تولید میں مادہ خلیے بغیر کسی سپرم کی مدد لیے ایک’ایمبریو‘میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے شارک کے تحفظ کے بارے میں اہم نکات سامنے آئے ہیں۔دنیا بھر میں تیزی سے ہونے والے شکار کی وجہ سے شارک کی بہت سی اقسام کی تعداد میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر جنسی فعل کے تولید کا عمل جینیاتی تغیر میں کمی لاتا ہے اور اگر شارک میں یہ طریقۂ پیدائش پایا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ یہ مچھلیاں کسی نئی بیماری یا موسمی حالات کا مقابلہ اتنی بہتر طریقے سے نہ کر سکیں جیسا کہ عام طریقے سے پیدا ہونے والی مچھلیاں کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر پاولو پروڈوہل کے مطابق’ شارک کے بارے میں فکر صرف ان کی تعداد میں کمی کی نہیں بلکہ ان کی صحت اور چستی میں کمی کی بھی ہے اور شارک کے تحفظ کے لیے بنائی جانے والی کسی بھی حکمتِ عملی میں ہماری اس دریافت کو مدِ نظر رکھنا ہوگا‘۔ | اسی بارے میں وھیل شارک کی زندگی کے راز25 September, 2005 | نیٹ سائنس ’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی18 January, 2006 | نیٹ سائنس امریکہ کی جاسوس شارک03 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||