BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 February, 2008, 05:06 GMT 10:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی حدت سے آبی مخلوق کو خطرہ
کیکڑے
کیکڑے انٹارکٹکا کے نہایت قریب دیکھے گئے ہیں
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے انٹارکٹکا کی سمندری مخلوقات کیکڑوں اور شارک مچھلیوں کا شکار بن کر معدوم ہو سکتی ہیں۔

بوسٹن میں’امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس‘ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ عالمی حدت کی وجہ سے ایکو نظام میں بنیادی تبدیلی آ سکتی ہے جو کہ چند محلوقات کے ناپید ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔

انٹارکٹکا کے سرد پانیوں کی وجہ سے وہاں پیدا ہونے والی مخلوق گرم پانیوں کی شکاری مخلوقات کی دستبرد سے کئی ملین برس تک محفوظ رہی ہیں تاہم اب گزشتہ پچاس برس میں ہی انٹارکٹکا کے اردگرد سمندر کا درجۂ حرارت ایک سو دو ڈگری سنٹی گریڈ بڑھ چکا ہے جو کہ عالمی حدت کی شرح سے دوگنا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر سمندر کے پانی کا درجۂ حرارت بڑھتا رہا تو پہلے کیکڑے اور پھر شارک جیسی شکاری مچھلیاں ان علاقوں کا رخ کر سکتی ہیں جس سے اس علاقے میں پائی جانے والی متعدد سمندری مخلوقات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

 سائنسدانوں کے مطابق اگر سمندر کے پانی کا درجۂ حرارت بڑھتا رہا تو پہلے کیکڑے اور پھر شارک جیسی شکاری مچھلیاں ان علاقوں کا رخ کر سکتی ہیں جس سے اس علاقے میں پائی جانے والی متعدد سمندری مخلوقات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

برطانوی سائنسدان ڈاکٹر تھاتجے نے بی بی سی کو بتایا کہ چالیس ملین سال قبل ’انٹارکٹک کولنگ‘ کی وجہ سے سمندر کی تہہ میں پائے جانے والے شکاری اس خطے سے ختم ہوگئے تھے کیونکہ وہ اتنے سرد ماحول میں زندہ رہنے کے قابل نہیں تھے۔

’تاہم آج گلوبل وارمنگ کی وجہ سے یہ رکاوٹ پھر سے ختم ہو رہی ہے اور ہم نے حال ہی میں بڑے کیکڑوں کی ایک قسم کو اس خطے کے بہت قریب دیکھا ہے اور اگر حدت میں اضافہ ہوتا رہا تو وہ جلد ہی انٹارکٹکا پر دھاوا بول دیں گے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا میں باقی رہ جانے والے اس واحد حسین قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے فوری طور پر مقامی اور عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی کوششوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر کنٹرول جبکہ عالمی کوششوں میں گرین ہاؤس گیسں کے اخراج پر قابو پانا ضروری ہے۔

اسی بارے میں
دس سالہ حدت کی پیش گوئی ممکن
10 August, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد