’سمندری کھِیرے‘ سے ملیریا کا مقابلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیق کے مطابق ’سمندری کھِیرا‘(سِی ککمبر) ملیریا کے جراثیم کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ’سمندری کھیرا‘ بارش کے بعد نکلنے والے کیڑوں سے ملتا جلتا ہے اور پروٹین اور دیگر ایسے اجزاء پیدا کرتا ہےجو ملیریا کے جراثیم کی پیداوار روکتے ہے۔ عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے جینیاتی انجنیئرنگ سے پیدا کردہ مچھروں کے ساتھ ایسے نتائج حاصل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پروٹین ملیریا کے جراثیم کی نشو نما روکتا ہے۔ تجربے میں ’سمندری کھیرے‘ میں پائے جانے والے پروٹین کو اس وقت ان مچھروں میں داخل کیا گیا تھا جب وہ خوراک حاصل کر رہے تھے۔ ملیریا سے دنیا بھر میں ہر سال پچاس کروڑ لوگ متاثر ہوتے ہیں اور دس لاکھ لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی کل آبادی میں سے چالیس فیصد لوگوں کو ملیریا کا خطرہ رہتا ہے۔ امپیریل کالج لندن کے پروفیسر باب سنڈن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج انتہائی حوصلہ افزاء ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی کافی کام باقی ہے۔ ’انہوں نے کہا کہ ’سمندری کھیرے‘ کے پروٹین سے مچھروں میں ملیریا کے جراثیم بہت حد تک کم ہوئے لیکن وہ مکمل طور ہر ختم نہیں ہوئے۔ | اسی بارے میں ملیریا سے بچاؤ، مچھلی کے ساتھ09 August, 2007 | نیٹ سائنس مرغی کے انڈوں سے کینسر کا علاج15 January, 2007 | نیٹ سائنس بلبلوں کے پھٹنے سے کینسر کا علاج 20 November, 2007 | نیٹ سائنس بلڈ پریشر کا نیا علاج ممکن: تحقیق25 August, 2007 | نیٹ سائنس بند شریانوں کے لیے نیا علاج02 June, 2007 | نیٹ سائنس ’گنجاپن ناقابل علاج نہیں رہا‘17 May, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||