’گنجاپن ناقابل علاج نہیں رہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوہیا کی جلد پر نئے بالوں کے خلیے پیدا کرنے والے امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں میں بھی بالوں کا گرنا یا گنجا پن اب شاید ناقابل علاج نہیں رہا۔ اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ بال اگانے والے خلیے ایک دفعہ متاثر ہو جائیں تو انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یونیورسٹی آف پینینسلونیا کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جریدے ’نیچر‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ایک جین کی مدد سے بالوں کی نشوونما بڑھائی جا سکتی ہے۔ ایک برطانوی ماہر کا خیال ہے کہ اس تحقیق کی مدد سے زخم بھرنے کے بہتر طریقے وضع کیے جا سکتے ہیں۔ انسانی سر پر خلیوں کے ایک لاکھ چھوٹے چھوٹے مجموعے ہوتے ہیں، جن میں ہر ایک سے ایک بال اگتا ہے۔ خلیوں کے یہ مجموعے حمل کے ابتدائی مرحلوں میں ایمبریو (جنین) پیدا کرتا ہے اور خیال کیا جاتا تھا کہ خلیوں کے ان مجموعوں کی جگہ بعد میں زندگی بھر نئے خلیے نہیں آتے۔ تاہم پینینسلونیا یونیورسٹی کی ٹیم نے بالوں کی نشوونما کرنے والے خلیوں کی دوبارہ پیداوار کے لیے ایک ایسا جین دریافت کیا ہے جو دراصل زخموں کو بھرنے کا کام کرتا ہے۔ تجربے کے دوران ایک چوہیا کی بیرونی جلد سے کچھ ٹکڑے علیحدہ کیے گئے اور دیکھا گیا کہ متاثرہ جگہوں پر زخم بھرنے کے ساتھ ساتھ بالوں کے نئے خلیے بھی وجود میں آئے۔ مزید تصدیق کے لیے زخم بھرنے والے جین کی اثر پذیری کو روکا گیا تو مشاہدے میں آیا کہ بالوں کے نئے خلیے بھی نہیں بنے۔ | اسی بارے میں بال نوچنے کی بیماری کے اسباب 30 September, 2006 | نیٹ سائنس شیمپو کا اثرماں کے پیٹ تک07 December, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||