BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 September, 2006, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بال نوچنے کی بیماری کے اسباب
یہ بیماری اکثر اوقات تشویش، افسردگی، جنون اور اضطراری بے ترتیبی کی علامات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے
سائنسدانوں نے ایسے نسبوں یا (جین) کا سراغ لگایا ہے جو بال گرنے اور اپنے ہی بال نوچنے کا سبب بنتے ہیں۔ اپنے بال نوچنے کی بیماری کو اب تک ناقابلِ علاج تصور کیا جاتا ہے۔

ٹرائیکوٹیلومونیا نامی یہ بیماری اکثر اوقات ٹائروٹس سنڈروم یا تشویش، افسردگی، جنون اور اضطراری بے ترتیبی کی علامات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔

اس بیماری میں مریضوں کے بال گرنے لگتے ہیں اور سر پر بالوں والے حصے جگہ جگہ سے خالی ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اکثر اوقات اس کے مریض اپنی بیماری کو چھپانے کو کوشش کرتے ہیں۔

ڈیوک یونیورسٹی کا یہ مطالعہ مالیکیولر سائیکیٹری نامی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

محقیقین نے اس مطالعے میں ایک ایسے نسبے یا جین کو تحقیق کا مرکز بنایا ہے جسے اس سے پہلے صرف تشویش، اضطرار اور جنون پیدا کرنے والی بیماری کا سبب تصور کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مذکورہ بالا بیماری کے مریضوں میں زیادہ تر دو طرح کے تبدیل شدہ یا منقلب صورت نسبوں کو دریافت کیا ہے جو تشویش، اضطرار اور جنون جیسی علامات پیدا کرتے ہیں اور جن میں مریض خود اپنے ہی بال نوچنے لگتے ہیں۔

اگرچہ اس بیماری کا تناسب بہت کم ہے لیکن سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں سامنے آنے والے تحقیقی نتائج اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اس بیماری کی بنیادیں حیاتیاتی ہیں۔

علاج دریافت نہیں ہو سکا
 ابھی تک ٹرائیکوٹیلومونیا کا کوئی مخصوص علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے اور اکثر اوقات اس کے علاج کے لیئے وہی دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو ٹائروٹس سنڈروم یا تشویش، افسردگی، جنون اور اضطراری بے ترتیبی کی علامات کی صورت میں استعمال کی جاتی ہیں

اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر سٹیفن زیوچنر کا کہنا ہے کہ ’معاشرے میں اب تک ٹرائیکوٹیلومونیا اور اس جیسی نفسیاتی بیماریوں کے بارے میں منفی سوچ پائی جاتی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے ’لیکن اگر ہم لوگوں پر یہ ثابت کر دیں کے ایسی بیماریوں کی بنیاد وراثتی ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ہمیں تشخیص میں مدد مل سکتی ہے بلکہ ہم اس کے علاج کے نئے طریقے دریافت کر سکتے ہیں اور ذہنی بیماریوں سے وابستہ بندھے ٹکے تصورات سے بھی نجات حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں‘۔

ابھی تک ٹرائیکوٹیلومونیا کا کوئی مخصوص علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے اور اکثر اوقات اس کے علاج کے لیئے وہی دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو ٹائروٹس سنڈروم یا تشویش، افسردگی، جنون اور اضطراری بے ترتیبی کی علامات کی صورت میں استعمال کی جاتی ہیں۔

اندھاپن، نئی تحقیق
جین کی دریافت، نابینا افراد کےلیے نئی امید
جیننئے جین کی دریافت
اندھے پن سے متعلق ایک نیا جین دریافت ہوا ہے۔
جینیاتی خوراک، امریکہ اور بین الاقوامی تجارتجینیاتی خوراک
جینیاتی خوراک، امریکہ اور بین الاقوامی تجارت
دل کی دشمن جین
ایک نئی جین جو ہارٹ اٹیک کی وجہ ہے
نیند کی کمیکم نیند، جگرکوخطرہ
کیاکم نیند جگر کے امراض کا خطرہ بڑھادیتی ہے؟
کلونِنگ سے انسانی جینآپ کی رائے
کلونِنگ سے انسانی جین کی تیاری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد