کم نیند، جگر کےامراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق سے یہ بات سا منے آئی ہے کہ بھرپور نیند نہ لینے والے افراد میں عام شخص کی نسبت جگر کے امراض پیدا ہونے کےخطرات بڑھ جاتے ہیں۔ نیند کی کمی کےلیے ماہرین سلیپ اپنیا کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ موٹاپہ بھی اس کا ایک سبب ہو سکتا ہے مگر پیرس سے تعلق رکھنے والے محقیقن نےبھرپور نیند نہ لینے کو براہِ راست جگر کی بیماری کا سبب بیان کیا ہے۔ جگر کے بارے میں کی گئی یہ تحقیق اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کے عام شخص کی نسبت فربہ فرد میں نیند کے پورا نہ ہونے سےجگر کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک برطانوی ماہر اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محض نیند کی کمی کوجگر کےمر ض کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لوگوں کی اکثریت سلیپ اپنیا کا شکار ہوتی ہے اس مرض میں مبتلا افراد کی سانس رات میں نیند کے دوران کچھ دیر کے لیے بند ہو جاتی ہے۔ اور نیند پوری نہ ہونےکے باعث دن بھر جسم شدید قسم کی تھکاوٹ کا شکار رہتا ہے۔ سلیپ اپنیا کے شکار افراد میں بلڈ پریشر کے امکانات بڑھ جاتےہیں۔ جو بعدازاں فالج اور دل کےامراض پیدا کر سکتا ہے۔ آ کسفرڈ سینٹر فار ریسپاریٹری میڈیسن کے پروفیسر جون سٹریڈلنگ کا کہنا ہے ان کا کہنا ہے کے سلیپ اینویا کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں بلڈ پریشر، انسولین کی مزاحمت اورمیٹا بولک سینڈروم شامل ہیں۔ یہ یقین سےکہنا بہت مشکل ہے کہ سلیپ اینویا ان تمام امراض کا نتیجہ ہے جو دراصل موٹاپے کا شاخسانہ ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پروفیسر جون سٹریڈلنگ کایہ بھی کہنا ہے کے رات میں نیند کے دوران سانس کا بند ہوجانا جگر پر خطرناک اثرات مرتب کرنےکاباعث بن سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||