ملیریا سے بچاؤ، مچھلی کے ساتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیا کے سائنسدان ملک میں ملیریا کے پھیلاؤ پر قابو رکھنے کے لیے مچھلیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ’نیل تیلاپیا‘ نامی مچھلی کینیا میں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔ یہ مچھلی مچھروں کو اپنا شکار بناتی ہے۔ 1917 میں مچھلی کی غذا کا پتہ چلنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نیل تیلاپیا کو باقاعدہ طور پر مچھروں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ حشرات الارض کے تحقیقاتی ادارے ’انٹرنیشنل سینٹر آف اِنسیکٹ فیزیالوجی اور ایکالوجی‘ کے ماہرین نے تجرباتی طور پر کینیا کے مغربی علاقوں کے جوہڑوں میں نیل تیلاپیا مچھلیوں کو چھوڑ دیا۔ کچھ عرصے بعد جب ان علاقوں میں مچھروں کی تعداد کا مشاہدہ کیا گیا تو ماہرین کو پتہ چلا کہ نیل تیلاپیا مچھلی کے مچھروں کے لاروا کو کھانے سے ملیریا پھیلانے والی مچھروں کی دو خطرناک قسموں تعداد 94 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ کینیا کے ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کو کم کرنے کے لیے مچھلیاں استعمال کرنے کی یہ ترکیب ان مچھروں کے خلاف خاص طور پر کارگر ثابت ہو سکتی ہے جن پر کیڑے مار ادویات اثر نہیں کرتیں۔ دنیا بھر میں ہر سال تیس کروڑ لوگ ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے نوّے فیصد لوگوں کا تعلق افریقی خطے سے ہوتا ہے۔ افریقہ میں ہر تیس سیکنڈ کے بعد ملیریا کی وجہ سے ایک بچے کی موت واقع ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں ’پرانہا زیادہ خطرناک نہیں‘03 July, 2007 | نیٹ سائنس جنگلی حیات کی بقاء، وسائل کی کمی16 June, 2007 | نیٹ سائنس ’شارک جنسی فعل کی محتاج نہیں‘23 May, 2007 | نیٹ سائنس ٹونا کے ’ناپید ہونے‘ کا خدشہ22 January, 2007 | نیٹ سائنس سمندری مچھلیوں کے ’صرف 50 سال‘03 November, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||