ٹونا کے ’ناپید ہونے‘ کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں ٹونا مچھلی کے مسلسل خاتمے کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے جاپان کے شہر کوبے میں ایک میں ایک کانفرنس شروع ہو رہی ہے جس میں ٹونا کے ناپید ہونے کے خدشے سے نمٹنے کی کوششوں پر غور کیا جائے گا۔ اس کانفرنس میں وہ پانچ علاقائی ادارے جو عالمی سطح پر ٹونا مچھلی کے سٹاک کے ذمہ دار ہیں شریک ہو رہے ہیں۔ ٹونا مچھلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انسان کے لیے سب سے زیادہ مفید مگر اب سب سے زیادہ خطرے میں گھری ہوئی آبی مخلوق ہے۔ اجلاس کے شرکاء عالمی ٹریکنگ کے ایک نظام کے قیام پر غور کریں گے جس کےتحت دنیا میں کہیں پر بھی ٹونا کی فروخت کی تصدیق ہو سکے گی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ٹونا مچھلی کی ڈرامائی کمی کا سبب اسےغیر قانونی طور پر اور بغیر ضوابط کے شکار کرنا ہے۔ بحرِ اوقیانوس میں ٹونا کا سٹاک کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ یہاں تیس برس قبل ٹونا کی جو تعداد پائی جاتی تھی، آج کہیں کم ہوگئی ہے۔ گزشتہ برس جاپان نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے ٹونا کا بہت زیادہ شکار کیا ہے اور سزا کے طور پر اپنے لیے ٹونا کے کوٹے میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ اسی آبی مخلوق کو ناپید ہونے سے بچانے کے لیے اب جاپان نے ہی کوبے میں کانفرنس بلائی ہے۔ اس کانفرنس میں مندوبین اور ماہی گیری کی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد ٹونا پکڑنے کے بعد ایسے اسناد کو پیش کرنے کے پابند ہوں گے جن سے واضح ہوگا کہ ان کے پاس ٹونا کہاں سے آئی ہے۔ | اسی بارے میں تیل دار مچھلی کھاؤ، ذہن بناؤ21 January, 2006 | نیٹ سائنس ’وہیل شارک‘ چھوٹی ہونے لگی18 January, 2006 | نیٹ سائنس اب تک کی سب سے چھوٹی مچھلی26 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||