تیل دار مچھلی کھاؤ، ذہن بناؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسےمائیں جوحمل کے دوران تیل والی مچھلی کھاتی ہیں ان کے بچے ذہنی طور پر بہت توانا ہوتے ہیں۔ اومیگا تھری روغنی ایسڈ ایسی بڑی مچھلیوں میں زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو چھوٹی مچھلیاں کھاتی ہیں۔ تحقیق کار نو ہزار ماؤں پر ریسرچ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایسی مائیں جو حمل کے دوران اومیگا تھری روغنی ایسڈ سےبھرپور خوارک نہیں کھاتی ہیں ان کے بچے کے دماغ اور ہاتھ میں تال میل اچھانہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اچھے ڈرائیور ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کا آئی کیو لیول بھی ان بچوں سے چھ پوائنٹ تک کم ہوتا ہے جن کی مائیں حمل کے دوران اومیگا تھری روغنی ایسڈ سے بھرپور خوراک کھاتی رہی ہوں۔ ایسے بچے جن کی ماؤں نے اومیگا تھری روغنی ایسڈ سے بھرپور خوراک نہیں کھائی وہ معاشرتی طور پر بھی زیادہ فعال نہیں ہوتے اوران میں دوست بنانے کی اہلیت بہت کم ہوتی ہے۔ تحقیق کارروں کے لیڈر ڈاکٹر جوزف ہبیلن نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے کے ذہن کو اومیگا تھری روغنی ایسڈ کی بہت ضرورت ہوتی ہےاور وہ یہ روغنی ایسڈ بچہ خود نہیں بناتا بلکہ اس کا انحصار اپنی ماں کی خوراک پر ہوتا ہے۔ خوراک کے ماہر پیٹرک ہولفورڈ نے کہا کہ بچوں کو اومیگا تھری روغنی ایسڈ کی سخت ضرورت ہوتی کیونکہ انسان کے ذہن کا ساٹھ فیصد چربی پر مشتمل ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں مچھلی کے پاس دِل کے علاج کا راز03 April, 2004 | نیٹ سائنس ٹوٹے دل جڑ سکتے ہیں13.12.2002 | صفحۂ اول آبی حیات انسان سے پناہ مانگتی ہے16.05.2002 | صفحۂ اول مچھلی کی ٹھنڈی یخ قلفیاں16.07.2003 | صفحۂ اول مچھیروں میں ایڈز کے امکانات زیادہ 27 March, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||