’پرانہا زیادہ خطرناک نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ کے دریاؤں میں پائی جانے والی پرانہا مچھلیاں اتنی خونخوار نہیں ہوتیں جتنی کہ وہ سمجھی جاتی ہیں۔ دریائے ایمزون میں ملنے والی پرانہا مچھلیوں کو گوشت خور قاتل کہا جاتا ہے اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مل کر حملہ کرتی ہیں اور چند لمحوں میں اپنے شکار کی تکا بوٹی کر دیتی ہیں۔ تاہم اب سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانہا مچھلیوں کی بنیادی خوراک میں پودے، کیڑے اور چھوٹی مچھلیاں شامل ہیں اور یہ بڑے گروہوں میں شکار کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے رہتی ہیں۔ پروفیسر این میگرن کا کہنا ہے’ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پرانہا مچھلیوں کے اکھٹا رہنے کی وجہ مل کر شکار کرنا ہے تاہم ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ ایک دفاعی حکمتِ عملی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ پرانہا مچھلیوں کو ڈولفن، کیمینز اور دیگر بڑی مچھلیوں سے خطرہ ہوتا ہے اور اسی لیے وہ گروہ کی شکل میں رہتی ہیں۔پروفیسر این میگرن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان مچھلیوں کےگروہ کا حجم بھی خطرے کے حساب سےہی ہوتا ہے اور جہاں جتنا خطرہ کم ہوتا ہے گروہ کا سائز اتنا ہی کم ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں اب تک کی سب سے چھوٹی مچھلی26 January, 2006 | نیٹ سائنس سمندری مچھلیوں کے ’صرف 50 سال‘03 November, 2006 | نیٹ سائنس مچھلیوں کےشکار پر پابندی نامنظور24 November, 2006 | نیٹ سائنس ’شارک جنسی فعل کی محتاج نہیں‘23 May, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||