BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 July, 2007, 04:01 GMT 09:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پرانہا زیادہ خطرناک نہیں‘
 پرانہا
پرانہا مچھلیوں کو ڈولفن، کیمینز اور دیگر بڑی مچھلیوں سے خطرہ ہوتا ہے
برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ کے دریاؤں میں پائی جانے والی پرانہا مچھلیاں اتنی خونخوار نہیں ہوتیں جتنی کہ وہ سمجھی جاتی ہیں۔

دریائے ایمزون میں ملنے والی پرانہا مچھلیوں کو گوشت خور قاتل کہا جاتا ہے اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مل کر حملہ کرتی ہیں اور چند لمحوں میں اپنے شکار کی تکا بوٹی کر دیتی ہیں۔

تاہم اب سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانہا مچھلیوں کی بنیادی خوراک میں پودے، کیڑے اور چھوٹی مچھلیاں شامل ہیں اور یہ بڑے گروہوں میں شکار کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے رہتی ہیں۔

پروفیسر این میگرن کا کہنا ہے’ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پرانہا مچھلیوں کے اکھٹا رہنے کی وجہ مل کر شکار کرنا ہے تاہم ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ ایک دفاعی حکمتِ عملی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پرانہا مچھلیوں کو ڈولفن، کیمینز اور دیگر بڑی مچھلیوں سے خطرہ ہوتا ہے اور اسی لیے وہ گروہ کی شکل میں رہتی ہیں۔پروفیسر این میگرن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان مچھلیوں کےگروہ کا حجم بھی خطرے کے حساب سےہی ہوتا ہے اور جہاں جتنا خطرہ کم ہوتا ہے گروہ کا سائز اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
اب تک کی سب سے چھوٹی مچھلی
26 January, 2006 | نیٹ سائنس
سمندری مچھلیوں کے ’صرف 50 سال‘
03 November, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد