بند شریانوں کے لیے نیا علاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدان بند شریانوں کے کھولنے سے خون جمنے کے امکانات کو ختم کرنے کا طریقہ تلاش کر رہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ٹیوبیں جنہیں سٹنٹ کہا جاتا ہے خون کی نالیوں کو کھلا رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، لیکن یہ خود بھی بند ہو سکتی ہیں۔ جرمنی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے کامیابی سے ایسے نئے سٹنٹ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو خراب نہیں ہوتے۔ اسی طرح آئرلینڈ کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ وہ سٹنٹ کو محفوظ کرنے کے لیے ایک نئی طرح کی کوٹنگ پر تجربہ شروع کرنے والی ہے۔ دِل کی شریانوں کو کھلا رکھنے کے لیے سٹنٹ کی ضرورت عارضی ہوتی ہے لیکن اس وقت استعمال ہونے والے دھات کے سٹنٹ پوری عمر کے لیے نصب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ خطرہ رہتا ہے کہ ان کے اندر بھی خون جم جائے گا۔ جرمنی کی ٹیم جن سٹنٹ پر کام کر رہی ہے ایسے میگنیشیم سے بنتے ہیں جو چار ماہ میں خودبخود تحلیل جائیں گے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس تکنیک پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں سبزیاں کھاؤ اور جان بچاؤ18 June, 2006 | نیٹ سائنس امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص11 November, 2006 | نیٹ سائنس ’دل خود اپنا علاج کر سکتا ہے‘16 November, 2006 | نیٹ سائنس دونوں ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کامیاب28 December, 2006 | نیٹ سائنس قہقہے گردش خون کے لیے مفید09 March, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||