BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بند شریانوں کے لیے نیا علاج
دِل
مستقبل میں تحلیل ہو جانے والے سٹنٹ ایک محفوظ متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں
سائنسدان بند شریانوں کے کھولنے سے خون جمنے کے امکانات کو ختم کرنے کا طریقہ تلاش کر رہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ٹیوبیں جنہیں سٹنٹ کہا جاتا ہے خون کی نالیوں کو کھلا رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، لیکن یہ خود بھی بند ہو سکتی ہیں۔

جرمنی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے کامیابی سے ایسے نئے سٹنٹ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو خراب نہیں ہوتے۔ اسی طرح آئرلینڈ کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ وہ سٹنٹ کو محفوظ کرنے کے لیے ایک نئی طرح کی کوٹنگ پر تجربہ شروع کرنے والی ہے۔

دِل کی شریانوں کو کھلا رکھنے کے لیے سٹنٹ کی ضرورت عارضی ہوتی ہے لیکن اس وقت استعمال ہونے والے دھات کے سٹنٹ پوری عمر کے لیے نصب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ خطرہ رہتا ہے کہ ان کے اندر بھی خون جم جائے گا۔

جرمنی کی ٹیم جن سٹنٹ پر کام کر رہی ہے ایسے میگنیشیم سے بنتے ہیں جو چار ماہ میں خودبخود تحلیل جائیں گے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس تکنیک پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
سبزیاں کھاؤ اور جان بچاؤ
18 June, 2006 | نیٹ سائنس
امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص
11 November, 2006 | نیٹ سائنس
’دل خود اپنا علاج کر سکتا ہے‘
16 November, 2006 | نیٹ سائنس
قہقہے گردش خون کے لیے مفید
09 March, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد