دونوں ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کولمبیا کی ایک خاتون دنیا کی پہلی خاتون ہیں جن کے دونوں ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کامیاب رہا ہے۔ سنتالیس سالہ البا لیوسیا کا تعلق کولمبیا سے ہے اور ویلنسیا کے ایک ہسپتال میں ان کے دونوں ہاتھ لگانے کے لیے پہلا آپریشن تیس نومبر کو کیا گیا تھا۔ یہ آپریشن دس گھنٹے طویل تھا۔ البا لیوسیا کا کہنا ہے ’ وہ اس آپریشن کے بعد بہت خوش اور مطمین ہیں‘۔ان کے دونوں ہاتھ تیس سال قبل کیمسٹری کی لیبارٹیری میں ایک دھماکے میں ضائع ہو گئے تھے اور جنھیں بعد میں مکمل طور پر کاٹ دیا گیا تھا۔ ان کے نئے اعضا ایک ایسی خاتون کے ہیں جنھیں ایک حادثے کے بعد دماغی طور پر مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس خاتون کے بازوں کو کہنی کے قریب سے اتارا گیا جس کے بعد ان بازوں کو ٹھنڈا کرکے پانچ گھنٹے سے کم وقت میں اس ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں البا لیوسیا کا آپریشن کیا جانا تھا۔ دس طبی ماہرین پر مشتعمل ایک ٹیم نے، جس میں سرجنز اور اینستھزیسٹ شامل تھے، ان بازوں کو البا لیوسیا کے بازوں کے ساتھ جوڑا اور دونوں بازوں کا ٹرانسپلانٹ ایک ہی وقت میں کیا گیا۔ پہلے البا لیوسیا کی بازوں کے سائز کو عطیہ دینے والی خاتون کے بازوں کے سائز سے ملایا گیا۔ اس کے بعد ہڈیوں کولوہے کی پلیٹوں اور سیکریو کے مدد سے جوڑا گیا اور پھر ایک مائیکروسکوپک سرجری میں شریانوں، رگوں اور نسوں کو آپس میں ملایا گیا۔ آپریشن کے بعد جب البا لیوسیا نے پہلی مرتبہ اپنے ہاتھ دیکھے تو ان کا کہنا تھا ’یہ بہت خوبصورت لگ رہے ہیں‘۔ پیڈرو کاواڈاس جن کی سرکردگی میں یہ آپریشن کیا گیا، کہتے ہیں کہ وہ اس آپریشن کے نتائج سے بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’البا لیوسیا کے دونوں ہاتھوں اور بازوں کے اگلے حصے کو کلائی کی ہڈی سے دو انچ اوپر لگایا گیا ہے۔ پانچ یا چھ مہینے کے بعد وہ ان بازوں میں حرکت محسوس کر سکے گی‘۔ انہوں نے کہا’وہ بہت خوش ہے۔ اس نے اٹھائیس سال ہاتھوں کے بغیر گزارے ہیں اور اب وہ اپنے آپ کو دوبارہ خوبصورت ہاتھوں کے ساتھ دیکھ سکتی ہے۔ ان ہاتھوں کے ساتھ وہ ایک خودمختار زندگی گزار سکے گی ‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا ’ کچھ کیسوں میں اس طرح کے اعضا مصنوعی اعضا سے بہتر کام کرتے ہیں‘۔ اس سے قبل سن دو ہزار میں فرانس میں 33 سالہ شخص کے دنوں ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں سیل ٹرانسپلانٹ سے بینائی واپس09 November, 2006 | نیٹ سائنس چہرے کی پہلی پیوندکاری06 February, 2006 | نیٹ سائنس چہرے کی تبدیلی، خدشات و سوالات02 December, 2005 | نیٹ سائنس طِب کا کمال، پہلی بار چہرہ تبدیل02 December, 2005 | نیٹ سائنس بیضہ کی کامیاب پیوندکاری 08 November, 2004 | نیٹ سائنس نئے چہرے لگنے والے ہیں27 May, 2004 | نیٹ سائنس سات ماہ کی بچی کے آٹھ اعضا تبدیل21 March, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||