چہرے کی تبدیلی، خدشات و سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں ڈاکٹروں نے انسانی تاریخ میں چہرے کی تبدیلی کا پہلا آپریشن کیا ہے۔ ایک متنازعہ آپریشن کے دوران سرجنوں نے ایک دماغی طور پر مردہ انسان کے چہرے کی رگیں، بافتیں اور پٹھے حاصل کر کے ایک اڑتیس سالہ زخمی عورت کے چہرے پر لگا دیے۔ چہرے کی تبدیلی کے اس عمل سے متعلق عام آدمی کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات: سوال: کیا یہ عمل پہلے بھی سرانجام دیا جا چکا ہے؟ جواب: یہ عمل پہلے کسی زندہ انسان پر نہیں کیا گیا۔ تاہم امریکہ کے ایک پلاسٹک سرجن کا کہنا ہے کہ وہ ایک مردہ شخص کا چہرہ ایک اور لاش کے چہرے سے تبدیل کر چکا ہے۔ سائنسدانوں نے بھی چوہوں اور کتوں پر چہروں کی تبدیلی کے کامیاب آپریشن کیے ہیں۔ بھارت میں بھی سرجنوں نے ایک شخص کا چہرہ دوبارہ لگایا ہے تاہم اس عمل کے دوران اس شخص کی ظاہری شکل بگڑ گئی اور پٹھے متاثر ہوئے۔ سوال: کیا صرف فرانسیسی ٹیم ہی چہروں کی تبدیلی کے عمل پر کام کر رہی ہے؟ جواب: نہیں۔ امریکی ریاست کلیولینڈ کے سرجنوں نے ستمبر سنہ 2005 میں اعلان کیا تھا کہ وہ چہروں کی تبدیلی کے ممکنہ مریضوں کے انٹرویو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ لندن میں ڈاکٹر پیٹر بٹلر کی قیادت میں اور کنٹکی میں امریکی ٹیم بھی اس سلسلے میں تحقیق میں مصروف ہے۔ سوال: اس سلسلے میں کس قسم کے طبّی خدشات لاحق ہیں؟ جواب: اب تک اس قسم کا تجربہ کسی بھی زندہ انسان پر نہیں کیا گیا ہے اس لیے کوئی بھی نہیں جانتا کہ طویل عرصے میں اس قسم کی تبدیلی کے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ طریقہ قابلِ عمل ثابت نہ ہو۔ مختصراً اس قسم کی تبدیلی میں ’ریجکشن‘( دماغی نظام کا نیا چہرہ قبول نہ کرنا) کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ماہر سرجنوں کا خیال ہے کہ ہر دسویں مریض کو تبدیلی کے چھ ہفتے بعد ہی ’ریجکشن‘ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اور دس میں سے آدھے مریض ایک سال کے عرصے میں اس مشکل سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی جسم کے دفاعی نظام پر قابو پانے والی ادویات کے استعمال سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے چناچہ جو فرد بھی چہرے کی تبدیلی کے عمل سے گزرنا چاہتا ہے اسے یہ سوچنا ہو گا کہ اس کے لیے اس عمل کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔ سوال: اخلاقی طور پر اس عمل سے متعلق کس قسم کے خدشات ہیں؟ جواب: چہرے کی تبدیلی سے متعلق دوسرا مسئلہ مریض اور چہرہ عطیہ کرنے والے شحض کے خاندان کی نفسیاتی الجھنوں کا ہے۔ اس سلسلے میں شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ لوگ اپنے رشتہ داروں کا چہرہ عطیہ کرنے کی اجازت دے دیں گے۔ اگر وہ لوگ اجازت دے بھی دیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ خاندان اس فرد سے ملاقات کے وقت کیسا برتاؤ کریں گی۔ ان لوگوں کو اس شخص کو اس نظر سے نہیں دیکھنا ہوگا جیسے وہ پہلے دیکھتے تھے۔ یہ بھی مسئلہ ہے کہ مریض کسی دوسرے فرد کے چہرے کے ساتھ کتنا مطمئن محسوس کرے گا۔ یاد رہے کہ وہ شخص جسے پہلی مرتبہ کسی دوسرے شخص کا ہاتھ لگایا گیا تھا اس تبدیلی سے مطمئن نہیں تھا اور اس نے اس ہاتھ کو علیحدہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ سوال: یہ مریض کیسے دکھائی دیں گے؟ کوئی نہیں جانتا۔ ان کے چہرے کے خدوخال اور ڈھانچہ عطیہ کرنے والے شخص جیسا نہیں ہو گا چناچہ وہ اس شخص کی مانند تو نہیں لگیں گے لیکن وہ ویسے بھی نہیں لگیں گے جیسے آپریشن سے قبل لگتے تھے۔ | اسی بارے میں طِب کا کمال، پہلی بار چہرہ تبدیل02 December, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||