چہرے کی پہلی پیوندکاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی ایک خاتون نے دنیا میں پہلی بار چہرے کی جزوی پیوندکاری کروائی ہے۔ اڑتیس سالہ ایزابیلا ڈائینیور نے پیوند کاری کروا کر صرف جرات مندی کا ثبوت ہی نہیں دیا ہے بلکہ وہ اب عالمی ذرائع ابلاغ کے کیمروں کی زد میں بھی آگئی ہیں۔ ان کا چہرہ ان کے اپنے کتے کے کاٹنے سے بری طری متاثر ہوگیا تھا جس کے بعد ستائیس نومبر کو ان کے چہرے کی پیوندکاری کی گئی۔ فرانس میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سرجری سے انہیں ایک عام زندگی گزارنے میں بہت مدد ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ گلیوں اور سڑکوں پر گھوم سکتی ہیں۔ ان کے پالتو لیبریڈار کتے کے حملے کے بعد ان کی ناک، ہونٹ اور تھوڑی ضائع ہوگئی تھی۔ کتے نے ان پر حملہ گزشتہ سال جون میں اس وقت کیا جب وہ سو رہی تھیں بعد میں کتے کو، ایزابیلا کے خاندان کی خواہش کے بر عکس ختم کردیا گیا۔ اب بھی ایزابیلا کو بولنے میں دقت کا سامنا ہے۔ ان کی ناک، گالوں اور جبڑے پر زخم کے گہرے نشان موجود ہیں۔ انہیں منہ بند کرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ اپنے مسخ شدہ چہرے کو پہلی مرتبہ دیکھنے کے بعد انہوں نے پریشان ہوکر کچھ دوائیاں کھالی تھیں جن سے وہ بے ہوش ہوگئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں’میں جب ہوش میں آئی تو میں نے سگریٹ جلانے کی کوشش کی جو میں نہ کرسکی اور تب مجھے معلوم ہوا کہ میرے ہونٹ ضائع ہوچکے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ مسخ شدہ چہرے کے ساتھ انہیں بہت سے جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ پھر انہیں پیوند کاری کا خیال آیا جس سے انہیں امید پیدا ہوئی کہ شاید ان کی حالت بہتر ہوسکے۔ ان کا کہنا ہے ’اب ہر کسی کی طرح میرے پاس بھی ایک عام چہرہ ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے محض تین ہی روز بعد وہ گھر سے باہر نکلنے کے قابل تھیں۔ انہوں نے اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم اور چہرے کے حصے عطیہ کرنے والی خاتون کا بھکا شکریہ ادا کیا۔ یہ حصے ایک ایسے خاتون سے لیے گئے ہیں جن کی دماغی طور پر موت واقع ہو چکی ہے۔ |
اسی بارے میں مشتبہ شخص کے چہرے کی تخلیق14.05.2002 | صفحۂ اول شوہر کے تشدد سے زخمی چہرہ16 April, 2004 | آس پاس طِب کا کمال، پہلی بار چہرہ تبدیل02 December, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||