سبزیاں کھاؤ اور جان بچاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسی محققین کا کہنا ہے کہ سبزیاں کھانے سے شریانوں میں چکنائی جمع ہونے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ امریکی محققین کا کہنا ہے کہ تجربے کے دوران جن چوہوں کو گاجر اور مٹر جیسی سبزیاں کھلائی گئیں ان کی شریانوں میں چکنائی کی مقدار اڑتیس فیصد کم پائی گئی۔ تجربے کے دوران چوہوں کی آدھی تعداد کو بغیر سبزیوں کی خوراک کھلائی گئی جبکہ بقیہ چوہوں کو بروکولی، مکئی، مٹر اور گاجر پر مشتمل خوراک دی گئی۔ سولہ ہفتوں کے بعد محققین نےتمام چوہوں کے خون کے نمونے لیئے اور جانچ سے پتہ چلا کہ جن چوہوں نے سبزیاں کھائی تھیں ان کی شریانوں میں جمع ہونے والی چکنائی کے مقدار دیگر چوہوں کے مقابلے میں کم ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ جن چوہوں نے سبزیاں کھائیں ان کے خون میں موجود کولیسٹرول اور ان کے مجموعی وزن میں بھی کمی واقع ہوئی۔ تاہم اس سے یہ مکمل طور پر ثابت نہیں ہو سکا کہ سبزیوں کا استعمال ’ایتھیروسیلورسس‘ نامی بیماری میں فائدہ مند ہے یا نہیں۔ اس بیماری میں شریانیں چکنائی کے باعث بند ہو جاتی ہیں اور خون کا بہاؤ رکنے کی وجہ سے دل کے دورے کی وجہ بنتی ہیں۔ محققین کےگروپ کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل ایڈمز کا کہنا ہے کہ’ گو کہ سب جانتے ہیں کہ زیادہ سبزیاں کھانا صحت کے لیئے مفید ہے لیکن آج سے پہلے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس سے ایتھیروسیلورسس کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اگرچہ تاحال یہ بات مصدقہ نہیں لیکن نتائج سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زیادہ ہری سبزیوں پر مشتمل خوراک کے استعمال سے دل کے دورے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے‘۔ امراض دل کے ماہر ڈاکٹر ایڈریان بریڈی کا کہنا ہے کہ یہ ایک دلچسپ اور حوصلہ افزاء تحقیق ہے اور اس میں عوام کے لیئے پیغام ہے کہ وہ سبزیاں استعمال کریں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کی مکمل تصدیق ہو سکے کہ پھل اور سبزیوں کا استعمال شریانوں میں چکنائی جمع ہونے سے روکتا ہے۔ | اسی بارے میں گوشت و مچھلی کا شوق وراثت میں14 June, 2006 | نیٹ سائنس بند گوبھی پھیپڑوں کے لیے مفید15 November, 2005 | نیٹ سائنس انار مثانے کے کینسر میں مفید: تحقیق01 October, 2005 | نیٹ سائنس آکوپنکچر سے ہائی بلڈ پریشر کا علاج30 March, 2005 | نیٹ سائنس پھل، سبزیاں اور سرطان سے بچاؤ 26 July, 2004 | نیٹ سائنس تین سیب روزآنہ، دل توانا27 February, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||