آکوپنکچر سے ہائی بلڈ پریشر کا علاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ برقی لہروں کے ساتھ آکوپنکچر کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر پر قابو پایا جا سکتاہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے سامنے آیا ہے کہ اس عمل کے ذریعے ہائی بلڈ پریشر کو پچاس فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان لونگ ہرسٹ اور ان کے معاونین نے آکوپنکچر طریقۂ علاج کو ان چوہوں پر استعمال کیا جن کا بلڈ پریشر مصنوعی طریقے سے بڑھایا گیا تھا۔ صرف آکوپنکچر کارگر ثابت نہیں ہوا تاہم جب اس کے ہمراہ ہلکی برقی رو استعمال کی گئی تو بلڈ پریشر میں چالیس سے پچاس فیصد تک کمی واقع ہوئی۔ اب اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ تکنیک ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا انسانوں کے لیے بھی اتنی ہی فائدہ مند ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر جان لونگ ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ’ اس دریافت سے پتہ چلا ہے کہ آکوپنکچر کو دیگر طریقۂ علاج کے ہمراہ دل کی بیماریوں سمیت دیگر امراض کے علاج کے لیےاستعمال کیا جاسکتا ہے۔‘ تاہم ان یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس قسم کے برقی آکوپنکچر کو صرف ہائی بلڈ پریشر میں کمی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور عام بلڈ پریشر پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔‘ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ترجمان بلنڈا لنڈن کا کہنا تھا کہ ’ اس تحقیق کو انسانوں پر استعمال کرنے سے قبل اس کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری ہے‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ ہمارا پیغام ابھی بھی وہی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر وزن کم کر کے، زیادہ پھل اور سبزیاں کھا کے، کھانے میں نمک کی مقدار کم کر کے اور ضرورت پڑنے پر ادویات استعمال کر کے کم کیا جا سکتا ہے۔‘ برٹش آکوپنکچر سوسائٹی کے میڈیکل ڈائریکٹر مائیک کمنگز کا کہنا ہے کہ ’ یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے لیکن میں مریضوں کو اس طریقۂ علاج کا مشورہ ابھی نہیں دوں گا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||