تھائی رائڈ میں کینسر کا علاج؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھائی رائڈ کے مرض کی تشخیص سے شاید سائنسدانوں کو چھاتی کے کینسر کو سمجھنے اور اس کا علاج دریافت کرنے میں مدد ملے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ دوسروں کی بنسبت اُن خواتین میں چھاتی کا سرطان کم ہوتا ہے جو تھائی رائڈ کے مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ ماہرین نے ایک میگزین ’کینسر‘ میں لکھا ہے کہ خواتین میں تھائی رائڈ ہارمونز اور جنسی ہارمونز اوئسٹروجن جسم میں ایک ہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ چھاتی کے کینسر کے علاج کی دوا ٹیموکسیفن ان اوئسٹروجن کو روکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید تھائی رائڈ ہارمونز کو روکنا کینسر کے علاج میں زیادہ موثر ثابت ہو سکے۔ تھائی رائڈ گلینڈ گردن میں ہوتا ہے اور جسم میں میٹابولزم کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے ہارمونز پیدا کرتا ہے۔ جب یہ زیادہ متحرک ہوجائے یا سست پڑ جائے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ تھائی رائڈ ہارمونز کے چھاتی پر اثر انداز ہونے کے بارے میں سائنسدانوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ تھائی رائڈ ہارمونز کی زیادتی چھاتی کے کینسر کا سبب بنتی ہے اور کچھ کا کہنا ہے کہ اس سے کینسر کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||