BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 November, 2004, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الزائمر کی ابتدائی تشخیص ممکن
News image
یہ ٹیسٹ دو سال میں عام دستیاب ہو گا
نینو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کیے جانے والے ٹیسٹوں سے اب الزائمر نامی بیماری کا ابتدائی مراحل میں پتا چلایا جا سکے گا۔

یہ ٹیسٹ اس پروٹین کی نشاندہی کرےگا جو کہ الزائمر کے شکار مریض کے دماغ میں جمع ہوتا ہے۔

یہ ٹیسٹ روایتی ٹیسٹوں سے بالکل مختلف ہے اور اس سے بیماری کی تشخیص میں بہت مدد ملے گی۔ مستقبل میں اس ٹیسٹ کی بنیاد پر کینسر، ایڈز اوردوسری بیماریوں کا ابتدائی مراحل میں ہی پتہ چلایا جا سکے گا۔

اس تکنیک کی تفصیلات لندن میں ایک کانفرنس میں بتائی گئیں۔

ڈاکٹر ابھی تک الزائمر کی تشخیص نہیں کر پاتے تھے اور مرض کا پتہ مریض کی موت کے بعد اس کے دماغ کے ٹشو کی جانچ سے چلتا تھا۔

امریکہ کی ایونسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر چاڈ مرکن نے کہا کہ ’ الزائمر کی 100 فیصد تشخیص بعد از مرگ ہی ہو سکتی ہے۔ ہم صرف علاج کے نئے طریقوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں‘۔

پروفیسر چاڈ مرکن اور ان کے ساتھیوں نے اس حساس ٹسٹ کو تیار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی موجودہ آلات کی مدد سے اس پر تحقیق نہیں کر سکتا اور وہ بھی نینو ٹیکنالوجی آلات کی بنا پر ہی اس ٹیسٹ کو تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب اگلا مرحلہ خون پر تحقیق کا ہے اگر وہ خون میں اسکی تشخیص کر نے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی۔

پروفیسر مرکن نے بتایا کہ ایسا ایک ٹیسٹ چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے بھی بنایا جا سکتا ہے جس میں PSA نامی پروٹین کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد