امراض قلب: بلڈ پریشرسے تشخیص | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر خون کا دباؤ معلوم کر کے دل کے امراض اور دورے کا قبل از وقت پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ ایک امریکی ٹیم کی ریسرچ کے مطابق دل کے مریضوں میں اموات کی زیادہ شرح کا تعلق ہسپتال میں داخلے کے وقت مریض کا سسٹولک پریشر کم ہونے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اُن کی تحقیق سے ایسے مریضوں کے لیے زیادہ بہتر علاج فراہم کیا جا سکتا ہے جنہیں دل عارضہ بلڈ پریشر کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ یہ تحقیق ایک جریدے ’جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن‘ میں شائع ہوئی ہے۔ برطانیہ میںدل کے مریض تقریباً دس لاکھ افراد ہیں اور ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ خون پمپ کرنے کی صلاحیت میں کمی دل کا مرض کہلاتی ہے۔ اس کا علاج مختلف دواؤں، اے سی ای inhibitor یا آپریشن سے کیا جاتا ہے لیکن ان طریقوں سے مرض کا قبل از وقت پتہ چلانے میں زیادہ مدد نہیں ملتی۔ کم سسٹولک بلڈ پریشر اور صحتیابی کے تعلق کامعائنہ کرنے کے لیے محققین نے 48,612 مریضوں کا معائنہ کیا جنہیں 2003 اور 2005 کے درمیان ہارٹ اٹیک کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ خون میں دو قسم کے دباؤ جانچے جاتے ہیں: ایک سسٹولک پریشر یعنی وہ پریشر جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خون دل سے شریانوں میں جاتا ہے اور دوسرا ڈاسٹولک پریشر جو شریانوں میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل آرام کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ 80/120 ایم ایم ایچ جی سے کم سسٹولک پریشر والے مریضوں کے ہسپتال میں انتقال کا خطرہ 7.2 فیصد ہے جب کہ نارمل سسٹولک پریشر والے مریضوں کی موت کا خطرہ 3.6 فیصد ہوتا ہے۔ وہ مریض جن کا سسٹولک پریشر بہت زیادہ ہوتا ہے، ہسپتال میں ان کے انتقال کا خطرہ 1.7 فیصد بتایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں مزاحیہ فلمیں ’دل کے لیے اچھی ہیں‘17 January, 2006 | نیٹ سائنس چاکلیٹ دل کے لیئے اچھا28 February, 2006 | نیٹ سائنس ذہنی دباؤ کم کیجئے، صحتمند رہیئے28 February, 2006 | نیٹ سائنس دل کے امراض کے لیے کامیاب دوا14 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||