انٹارکٹک میں آتش فشانی کا سراغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں انٹارکٹک میں آتش فشانی کی پہلی شہادت ملی ہے۔ اُن کے مطابق یہ آتش فشانی تقریباً دو ہزار سال قبل پیش آئی اور بھاپ اور پتھروں کا ایک فوارہ بنا۔ برطانوی انٹارکٹک سروے کے سائنسدانوں کی تحقیقات نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں چھپی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات برف کے انبار کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ برف کا انبار موسم کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سائنسدانوں نے آتش فشانی کا سراغ ریڈار سے حاصل کردہ معلومات سے لگیا جو کہ سنہ دو ہزار چار اور پانچ کے دوران ایک فضائی سروے میں حاصل کی گئی تھیں۔ ان معلومات کے مطابق ہڈسن پہاڑی پر آتش فشانی کی راکھ برف پر پھیلی ہوئی تھی تاہم یہ راکھ برفباری سے چھپ گئی ہے۔ اس علاقے کے بیچ میں ایک پتھر برف کے نیچے ایک پہاڑ کی مانند ایک کلومیٹر اُبھرا ہوا ہے۔ اس کے اوپر برف کی تہہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آتش فشانی دو ہزار دو سو سال قبل ہوئی تھی۔ ہیوگ کور کے مطابق یہ آتش فشانی دس ہزار سال میں سب سے بڑی تھی جس کے نتیجے میں برف میں سوراخ ہوا اور راکھ اورگیس بارہ کلومیٹر ہوا میں پھیل گئے تھے۔ آتش فشانی کے بارے میں مزید شواہد برف کی تہہ سے ملے ہیں۔ سیٹلائٹ سے ملے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مغربی انٹارکٹک میں برف کم ہو رہی ہے۔ چند سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گرم پانی برف کے پگھلنے میں تیزی لا رہا ہے اور اس وجہ سے سمندری سطح بلند ہو سکتی ہے۔لیکن وہ آتش فشاں جو کہ ظاہری طور پر متحرک نہیں ہیں وہ بھی برف کے نیچے سے حرارت خارج کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں آئس لینڈ ، آتش فشاں کی طاقت04 November, 2004 | نیٹ سائنس آتش فشاں کے مرکز تک کھدائی27 March, 2006 | نیٹ سائنس ’ایتھوپیا: ایک نیا سمندر بننے کو ہے‘22 July, 2006 | نیٹ سائنس مریخ پر ’متحرک گلیشیئر‘ دریافت20 December, 2007 | نیٹ سائنس اوزون کا شگاف بڑھ نہیں رہا23 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||