اوزون کا شگاف بڑھ نہیں رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صفِ اول کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی سطح کے گرد موجود اوزون کی سطح پر پڑنے والا شگاف مزید بڑھ نہیں رہا۔ اوزون کی تہہ سورج کی الٹرا واہیلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ یہ شعاعیں انسانوں، جانوروں اور پودوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ 1986 میں اوزون کی سطح میں شگاف کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں تھیں جن کے بعد مانٹریال پروٹوکول نامی عالمی ماحولیاتی معاہدہ کیا گیا تھا جس میں یہ طے ہوا تھا کہ ایسے کمیائی مادے جن سے اوزون کی سطح کو نقصان پہنچتا ہو ان کے استعمال پر پابندی لگائی جائے ان مادوں میں خصوصی طور پر سی ایف سی نامی کیمیکلز شامل تھے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ شگاف آئندہ ساٹھ سالوں میں ’بھر‘ جائے گا۔ 1980 کی دیہائی میں جن دو سائنسدانوں کے کام نے دنیا کو اس شگاف کے بارے میں متوجہ کیا تھا انہوں نے واشنگٹن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پُر امید میں کہ اوزون کی سطح ٹھیک ہو رہی ہے۔
امریکہ میں نیشنل اوشنک اینڈ ایٹماسفرک ایڈمنسٹریشن میں گلوبل مانیٹرنگ ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیویڈ ہوفمیں نے کہا ہے کہ ’میں بہت پُر امید ہوں کہ اوزون کی سطح بلکل ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ میری زندگی میں تو نہیں لیکن شاہد آپ کی زندگی میں ممکن ہو گا۔‘ انٹرگورمینٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج کی ڈاکٹر سوسن سولومن کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہی امید رکھتی ہیں لیکن ابھی اور بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں دراصل اُوزون کی پیمائش کرنی چاہیے تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ کہ کیا واقعی اس کی سطح بہتر ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو کہ کہ بین الاقوامی بردری کی طرف سے کی جانے والی کوششیں کس حد تک کارآمد ہوں گی۔‘ دونوں سائنسدانوں نے یہ بات اپنی تحقیقات کی بیسویں سالگرہ مناتے ہوئے کہی جب انہوں نے دنیا کو اوزون میں پڑنے والے شگاف کے بارے میں بتایا تھا۔ | اسی بارے میں ہیروئن کے ساتھ سی ایف سی بھی01 February, 2004 | نیٹ سائنس اوزون کی تہہ میں بہتری01.08.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||