BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2004, 19:27 GMT 00:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیروئن کے ساتھ سی ایف سی بھی
پاکستان میں سی ایف سی ہیروئن کے ہمراہ سمگل ہو کر آرہی ہے۔
پاکستان میں سی ایف سی ہیروئن کے ہمراہ سمگل ہو کر آرہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد جو ہیروئن کی سمگلنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، اب ایک اور طرح کی سمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ سمگل کی جانے والی یہ نئی چیز سی ایف سی نامی کیمیائی مادہ ہے جسے ایروسولز اور ریفریجریشن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

سی ایف سی کو اوزون کی تہہ کے لئے سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور مونٹریال پروٹوکول کے تحت اس کی پیداوار ممنوع ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک کو اس کی پیداوار کی اجازت ’بنیادی ضروریاتی پیداوار‘ کے اصول کے تحت ایئر کنڈیشننگ اور ریفریجریشن کی مشینری میں استعمال کے لئے دی گئی ہے۔

کراچی کی ’سمفنی لمیٹیڈ‘ کے ڈائریکٹر سلیم موتی والا نے، جن کی کمپنی پاکستان میں اس محدود قانونی کاروبار کا حصہ ہے، بی بی سی عالمی سروس کو بتایا کہ ’کم از کم بیس سے پچیس‘ پاکستانی کمپنیاں اس سمگل شدہ کیمیائی مادے کا کاروبار کرر رہی ہیں جو اسی راستے سے آرہا ہے جس سے ہیروئن۔‘

سی ایف سی کے کیمیائی مواد اوزون کی تہہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں
سی ایف سی کے کیمیائی مواد اوزون کی تہہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پاکستانی حکام کو اس سے مطلع کیا ہے لیکن وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہے۔‘

ان کے مطابق اس سمگلنگ کا بنیادی ذریعہ افغانستان یا چین ہے جہاں سے زیادہ تر ہیروئن سمگل کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ ’ بھارتی برانڈز ہیں اور کچھ عجیب سے جو شاید مشرقی یورپی اور روسی ہیں۔ طالبان کے دور میں یہ ختم ہو گیا تھا لیکن افغانستان کی آزادی کے بعد ہر چیز غیر قانونی طور پر آرہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ہیروئن باہر جاتی ہے تو اس کے بدلے کچھ نہ کچھ تو واپس آنا ہی ہے۔ تاہم کسٹم حکام کے اس بات کی تردید کی کہ سلیم موتی والا نے انہیں اس سلسلے میں مطلع کیا ہے۔

مونٹریال پروٹوکول اب تک ماحولیات کے لیے ہونے والا سب سے کامیاب عالمی معاہدہ ہے۔
مونٹریال پروٹوکول اب تک ماحولیات کے لیے ہونے والا سب سے کامیاب عالمی معاہدہ ہے۔

مغربی ممالک میں کمپنیاں سی ایف سی کے کیمیائی مادے ان ممالک میں برآمد کرنے کے لئے بناتے ہیں جہاں ان کی ضرورت ہے اور جو قانونی طور پر مختلف کمپنیوں کو بیچے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کمپنیاں آگے ان میں سے کچھ بلیک مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں جہاں سے غیر قانونی طور پر مختلف ممالک میں انہیں سمگل کر دیا جاتا ہے۔

ماحولیاتی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈاکٹر ایذرا کلارک کا کہنا ہے کہ ’ ہماری تحقیات سے ثابت ہوا ہے کہ ایسا ہو رہا ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد