| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیروئن کے ساتھ سی ایف سی بھی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد جو ہیروئن کی سمگلنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، اب ایک اور طرح کی سمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ سمگل کی جانے والی یہ نئی چیز سی ایف سی نامی کیمیائی مادہ ہے جسے ایروسولز اور ریفریجریشن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سی ایف سی کو اوزون کی تہہ کے لئے سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور مونٹریال پروٹوکول کے تحت اس کی پیداوار ممنوع ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک کو اس کی پیداوار کی اجازت ’بنیادی ضروریاتی پیداوار‘ کے اصول کے تحت ایئر کنڈیشننگ اور ریفریجریشن کی مشینری میں استعمال کے لئے دی گئی ہے۔ کراچی کی ’سمفنی لمیٹیڈ‘ کے ڈائریکٹر سلیم موتی والا نے، جن کی کمپنی پاکستان میں اس محدود قانونی کاروبار کا حصہ ہے، بی بی سی عالمی سروس کو بتایا کہ ’کم از کم بیس سے پچیس‘ پاکستانی کمپنیاں اس سمگل شدہ کیمیائی مادے کا کاروبار کرر رہی ہیں جو اسی راستے سے آرہا ہے جس سے ہیروئن۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پاکستانی حکام کو اس سے مطلع کیا ہے لیکن وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہے۔‘ ان کے مطابق اس سمگلنگ کا بنیادی ذریعہ افغانستان یا چین ہے جہاں سے زیادہ تر ہیروئن سمگل کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ ’ بھارتی برانڈز ہیں اور کچھ عجیب سے جو شاید مشرقی یورپی اور روسی ہیں۔ طالبان کے دور میں یہ ختم ہو گیا تھا لیکن افغانستان کی آزادی کے بعد ہر چیز غیر قانونی طور پر آرہی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ہیروئن باہر جاتی ہے تو اس کے بدلے کچھ نہ کچھ تو واپس آنا ہی ہے۔ تاہم کسٹم حکام کے اس بات کی تردید کی کہ سلیم موتی والا نے انہیں اس سلسلے میں مطلع کیا ہے۔
مغربی ممالک میں کمپنیاں سی ایف سی کے کیمیائی مادے ان ممالک میں برآمد کرنے کے لئے بناتے ہیں جہاں ان کی ضرورت ہے اور جو قانونی طور پر مختلف کمپنیوں کو بیچے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کمپنیاں آگے ان میں سے کچھ بلیک مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں جہاں سے غیر قانونی طور پر مختلف ممالک میں انہیں سمگل کر دیا جاتا ہے۔ ماحولیاتی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈاکٹر ایذرا کلارک کا کہنا ہے کہ ’ ہماری تحقیات سے ثابت ہوا ہے کہ ایسا ہو رہا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||