’ایتھوپیا: ایک نیا سمندر بننے کو ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیٹلائیٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کی مطابق ایتھوپیا میں زمین کی سطح پر پڑنے والی گہری دراڑ صدیوں میں نہیں تو دہائیوں میں پڑنے والی سب سے بڑی دراڑ ہے اور یہ دڑار افریقہ میں ایک اور سمندر کا روپ دھار سکتی ہے۔ ماہرینِ ارضیات کے مطابق ایک سال پہلے پڑنے والی یہ دراڑ بحرِہ احمر تک پہنچ سکتی ہے اور اس کی وجہ سے ایتھوپیا اور ایریٹیریا کا علاقہ باقی افریقہ سے الگ ہو جائے گا۔ ساٹھ کلومیٹر لمبی یہ دراڑ ستمبر میں آنے والے زلزلے کے بعد پڑی تھی۔ تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق یہ دراڑ اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ اس دارڑ سے زمین کی گہرائی میں ہونے والی تبدیلوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جہاں پر افریقہ کی ٹیکٹانک پلیٹ عرب کی ٹیکٹانک پلیٹ سے دور ہٹ رہی ہے جس کی وجہ سے زمین کی سطح میں کیھچاؤ پیدا ہو رہا ہے اور وہ چوڑی ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے دراڑ نمودار ہو رہی ہے ، پھگلا ہوا لاوہ سطح کے نیچے سے اُبل کر باہر آ رہا ہے اور سخت ہو کر سمندرکی سخت سطح میں تبدیل ہو رہا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ٹم رائٹ کا کہنا ہے کہ اگر یہ دراڑ اسی طرح بڑھتی گئی تو ہارن آف افریقہ (horn of Africa) آہستہ آہستہ تقریبًا دس لاکھ سالوں میں باقی براعظم سے الگ ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو ایک نیا سمندر آہستہ آہستہ بن جائے گا۔ یہ بحیرہ احمر سے مل جائے گا اور اُس کا پانی اس میں آ جائے گا‘۔ زمین کی پلیٹوں میں یہ تبدیلی بیس لاکھ سالوں کے دورانیے پر مشتمل ہے لیکن مسلسل زلزلوں اور آتش فشاں پہاڑوں کی پھٹنے سے یہ تبدیلی نمودار ہوتی ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ پچھلے ستمبر میں ہوا جس کی وجہ سے پڑنے والی دراڑ ایتھوپیا سے بخیرہ احمر کے جنوبی کنارے تک جاتی ہے۔ | اسی بارے میں بحرہند: زلزلے، طوفان، سات ہزار ہلاک26 December, 2004 | صفحۂ اول انڈونیشیا میں شدید زلزلہ19 February, 2005 | صفحۂ اول پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ08 October, 2005 | صفحۂ اول 19,400 ہلاک، بیالیس ہزار زخمی09 October, 2005 | صفحۂ اول 18000 افراد ہلاک، اکتالیس ہزار زخمی09 October, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||