آتش فشاں کے مرکز تک کھدائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئس لینڈ میں ماہرین ارضیات تحقیق کے لیئے ایک کھولتے ہوئے آتش فشاں کے مرکز تک کھدائی کررہے ہیں۔ 20 ملین ڈالر لاگت کے اس پروجیکٹ سے توانائی حاصل کرنے کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ سمندر کی نئی سطح کس طرح تخلیق ہوتی ہے۔ اس منصوبے سے ماضی کے منصوبوں کی نصبت 10 گنا زیادہ جیو تھرمل توانائی حاصل ہوگی۔ بیس برس پہلے ایسے ہی ایک منصوبے پر کام کرنے والے ماہر ارضیات گدمندر عمر فریڈلیفسن کو اس وقت انتہائی حیرت ہوئی تھی جب انہوں نے اس طرح سے کھودے گئے ایک سوراخ میں تھرمامیٹر ڈالا تو وہ مکمل طور پر پگھل گیا۔ یہ تھرمامیٹر 380 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت دکھاسکتا تھا مگر پھر بھی پگھل گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوراخ کے اندر درجہ حرارت 400 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ تھا۔ عمر فریڈلیفسن کا کہنا ہے کہ آئس لینڈ کی آتش فشانی چٹانوں سے بہت سی توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جنوب مغربی آئس لینڈ کا چٹانی علاقہ ایک عجیب و غریب اور نامانوس دنیا دکھائی دیتا ہے۔ اس علاقے میں کھولتے پانی کے تالاب ہیں جبکہ کئی جگہوں پر بھاپ اٹھتی دکھائی دیتی ہے۔
آئس لینڈ کے گرم پانی اور بھاپ کے تالاب سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ یہاں کئی صنعتی مراکز کھولنے کی کوشش کی گئی مگر کئی بعد میں بند کردیئے گئے مثلاً ایک نمک کی فیکٹری، پاور سٹیشن وغیرہ۔ قدرت حسن کے لحاظ سے بھی یہ علاقہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں آخری آتش فشاں چودھویں صدی میں پھٹا تھا۔ آئس لینڈ کا چٹانی سلسلہ سطح سمندر سے اوپر واقع ہونے کے باعث ماہر ارضیات کی رسائی میں ہے۔ یہ بہت ہی غیر معمولی خطہ ارض ہے۔ آئس لینڈ میں جیو تھرمل توانائی کے بہت سے پاور سٹیشن پہلے ہی سے قائم ہیں جو بھاپ سے بجلی پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں اور یہ توانائی 600 سے 1000 میٹر گہرے سوراخوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں وسط ایشیامیں ہلچل26 March, 2005 | آس پاس بحرالکاہل میں دھوئیں کا بادل03 July, 2005 | پاکستان ’الائی میں آتش فشاں نہیں ہیں‘25 October, 2005 | پاکستان نئے سمندر کے جنم کے امکانات09 December, 2005 | نیٹ سائنس ’کھوئی ہوئی دنیا‘ کی دریافت28 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||