BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کھوئی ہوئی دنیا‘ کی دریافت
پومپائی
کھدائی سے ملنے والی اشیا یہ اشارہ دیتی ہیں کہ یہ لوگ دولتمند لوگ تھے
جدید زمانے کے سب سے بڑے آتش فشاں پھٹنے کے مقام پر تحقیق سے ایک ’کھوئی ہوئی دنیا‘ دریافت ہوئی ہے۔

1815 میں انڈونیشیا کے جزیرے سمباوا میں تمبورا کی آتش فشاں چوٹی پھٹنے سے قریباً ایک لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

اس مقام کی کھدائی سے ایک ایسے گھر کے باقیات دریافت ہوئے ہیں جس کے دومکین راکھ میں دفن ہوگئے تھے۔ اس دریافت کو ’مشرق کے پومپائی‘ کی دریافت کہا جارہا ہے۔

سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ کانسی اور مٹی کے برتنوں اور فنون لطیفہ سے متعلق ایسی ہی اشیاء کی موجودگی سے قدیم انڈونیشیا کی ثقافت کا اندازہ ہوتا ہے۔

امریکہ کے رہوڈ آئی لینڈ کی یونیورسٹی کے پروفیسر ہارالڈر سگرڈسن کا کہنا ہے کہ امکان موجود ہے کہ تمبورا ’مشرق کا پومپائی‘ ثابت ہو۔

پروفیسر ہارالڈر سگرڈسن اس مقام پر گزشتہ بیس سال سے تحقیق کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقام کو اسی حالت میں محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

گرمیوں کے بغیر سال
اس سال کو ’گرمیوں کے بغیر کا سال‘ کہا جاتا ہے کیونکہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد فضا میں ایسا گردو غبار چھایا تھا کہ تمام دنیا شدید سردی کی لپیٹ میں آگئی تھی۔

ایک لاکھ کی آبادی پر مشتمل یہ گمشدہ گاؤں بھی پروفیسر ہارالڈر سگرڈسن اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

دریافت کیا گیا گھر ریڈار کی مدد سے ملا ہے جوکہ دس فٹ موٹی راکھ میں دفن ہوچکا تھا۔ یہ گھر جل کر مکمل طور پر کالا ہوچکا تھا۔ اس کے اندر جلی ہوئی لاشیں تھیں۔ باقی گاؤں بھی راکھ کے اندر دفن ہے جسے ابھی کھودا جائے گا۔

کھدائی سے ملنے والی اشیا یہ اشارہ دیتی ہیں کہ یہ لوگ دولتمند لوگ تھے اور ان کے ویت نام اور کمبوڈیا کے لوگوں سے تعلقات تھے۔

خیال ہے کہ ان کی زبان اب بھی جنوب مشرقی ایشیا کے چند حصوں میں بولی ہوتی ہے۔

پروفیسر کا خیال ہے کہ راکھ میں ایک لکڑی کا محل بھی موجود ہے جس پر وہ اگلے سال تحقیق کریں گے۔

ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ تمبورا کا آتش فشاں انسانی تاریخ کے بدترین آتش فشاؤں میں سے ایک تھا۔

یہ دھماکہ اپریل 1815 میں ہوا تھا۔ اس شدید دھماکے سے جاوا اور بالی سمیت ایک بڑا علاقہ متاثر ہوا تھا۔

اس سال کو ’گرمیوں کے بغیر کا سال‘ کہا جاتا ہے کیونکہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد فضا میں ایسا گردو غبار چھایا تھا کہ تمام دنیا شدید سردی کی لپیٹ میں آگئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد