بحرالکاہل میں دھوئیں کا بادل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بحرِالکاہل کے اوپر بھاپ کا جو بادل سا دکھائی دے رہا ہے یہ غالباً زیرِ آب آتش فشاں ہے۔ جاپان میں ساحلی محافظوں نے تین ہزار دو سو اسی فٹ لمبا چوڑا بادل دیکھنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل کی تاکہ بھاپ کے اس بادل کے بارے میں مزید پتہ چلایا جا سکے۔ یہ بادل جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے جنوب مشرق میں سات سو میل دور ہے۔ سمندری جہازوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے دور رہیں۔ ماہرین کی ٹیم نے کہا ہے کہ جہاں جہاں بادل ہے وہاں علاقے اور فضا کی رنگت سرخی مائل ہے۔ ساحلی محافظوں کے ترجمان شیجیوکی ساتو کا کہنا ہے کہ ’بہت زیادہے امکان ہے کہ یہ بادل در اصل پانی کے نیچے آتش فشاں کے پھٹنے کے باعث سامنے آیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ ایو جیما کے جزیرے پر متعین جاپان کے فوجیوں نے پہلی بار اس بادل کو ہفتے کے دن دیکھا تھا۔ ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فلم میں نظر آ رہا ہے کہ پانی سے جس کا رنگ ویسا ہی سرخ ہے جیسے اینٹوں کا ہوتا ہے، سفید دھواں آسمان کی طرف اٹھتا جا رہا ہے۔ ساحلی محافظوں کے ایک اور ترجمان نے بتایا کہ ’ہمیں شبہہ ہے کہ زیرِ آب جوالا مکھی نہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں جان بھی ہے۔‘ آخری بار اسی علاقے میں زیرِ آب آتش فشاں انیس سو چھیاسی میں پھٹا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||