طوفان سےمونگے کی چٹانوں کو خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنس دان اب اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشیں کر رہے ہیں کہ بحرِ ہند میں آنے والے اس زلزلے سے ماحولیات کو کس حد تک نقصان پہنچا ہے۔ بی بی سی کے سائنس کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طوفان سے مونگے کی چٹانوں کو خطرے کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے اور اس سے ان مچھلیوں کو بھی خطرہ ہوگا جو ان چٹانوں پر پلتی ہیں اور جو مقامی معیشت کا اہم سہارا ہیں ۔ تھائی لینڈ میں ماحولیاتی اہلکاروں نے اس سروے میں مدد کی اپیل کی ہے۔محکمۂ حیوانیات انڈمان نکوبار جزائر میں مونگے کی چٹانوں کے تفصیلی جائزے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ ہندوستان میں ماہرین ماحولیات نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے امدادی کاموں کے لیےانڈمان نکوبار جزائر میں درختوں کو کاٹنے کی اجازت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈمان میں محکمۂ حیوانیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آر کے شاستری کا کہنا ہے ’ہم ابھی حالات بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد ہی نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔ مسٹر شاستری کا کہنا ہے کہ شاخ در شاخ پھیلے ہوئے مونگے زیادہ نازک ہوتے ہیں اور ان طوفانی لہروں میں انہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||