عورتیں لیبارٹری سے دور کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ نے یونیورسٹی میں فزکس، ریاضی یا انجنیرنگ میں ٹاپ کیا ہے تو آپ کے عورت ہونے کے امکان کم ہیں۔ مگر ایسا کیوں ہے؟ سنہ دو ہزار پانچ میں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر لیری سمرز نے کہا تھا کہ عورتوں کے یہ مضامین پڑھنے کے امکانات کم ہونے کی وجہ حیاتیاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں عورتوں اور مردوں کے درمیان قدرتی فرق کی وجہ سے عورتیں ایسے مضامین میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتیں۔ لیری سمرز کے اس بیان کی وجہ سے بہت احتجاج ہوا تھا۔ برطانیہ میں یونیورسٹی آف باتھ کی پروفیسر ہیلن ہیسٹ، جو کہ اًس دنوں ہارورڈ میں کام کرتی تھی، نے کہا کہ جب پروفیسر لیری سمرز نے یہ تقریر کی تو انہیں ایسا لگا جیسے 1970 میں سائنس کے شعبوں میں آنے والی مجھ جیسی عورتوں کو کم استعداد کی مالک اور غیر تربیت یافتہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ پروفیسر ہیلن ہیسٹ کے مطابق ان کے اپنے سپروائزرز کا کہنا تھا کے عورتوں کی جگہ لیبارٹری میں نہیں ہے بلکہ گھر میں بچوں کے ساتھ ہے اور اگر کسی ادارے میں بارہ پی ایچ ڈی کی فیلو شِپ مل رہی ہوں تو ان میں سے صرف ایک عورت ہوگی۔ بدلتے ہوئے زمانے کے باوجود بہت کم عورتیں ہیں جو مختلف مضامین میں کسی اعلی درجے تک پہنچ پائی ہیں۔ 2005 اور 2006 کے درمیانی عرصے میں دیکھا گیا ہے کہ برطانیہ میں آدھے سے زیادہ طلبہ جو کہ اعلی تعلیم میں ہیں وہ عورتیں ہیں مگر ریاضی کے پروفیسروں میں ان کا تناسب صرف تین فیصد جبکہ انجنیرنگ میں صرف دو فی صد ہے۔ امریکہ کی مزوری یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ گیری کا کہنا ہے کہ مردوں میں دو خوبیاں ہیں جس کی وجہ سے یہ ایسے مضامین میں عورتوں سے بہتر ہیں۔ پہلی خوبی چیزوں کی ہیت کا صحیح تصور کرنے کی اہلیت رکھنا ہے اور دوسری خوبی چیزوں کے کام کرنے کے طریقے میں دلچسپی لینا ہے۔ پروفیسر گیری کے خیال میں مردوں میں یہ دونوں خوبیاں عورتوں سے زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق ان خوبیوں کے ہونے سے ریاضی اور انجینیرنگ جیسے مضامین کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ لڑکوں کو گاڑیوں جیسے کھلونوں میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پروفیسر ہیلن کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں اگر ایسا مضمون مل جائے جو انجنیرنگ جیسے مضامین میں مدد کرے اور اس میں اگرساٹھ فیصد مرد ہوں توچالیس فیصد عورتیں بھی ہوں گی۔ پروفیسر ہیلن کہتی ہیں کہ اب اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مزید عورتیں میدان میں آچکی ہیں۔ جتنی عورتیں 1960 میں طب میں تھیں اب ان کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ سارے طلبہ اپنے شعبوں میں کام کر رہے ہوں گے تو ان میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی۔ مگر لنڈن اسکول آف اکنامکس کی ڈاکٹر ہیلینا کرونن کہتی ہیں کہ ماضی کے اعدادوشمار کو لے کر ہم آگے جو ہونے والا ہے کا حساب نہیں لگا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کرونن کہتی ہیں کہ اگر لوگ سائنس کا غلط استعمال کرتے ہیں تو یہ ان کا قصور ہے سائنس کا نہیں۔’ اگر آپ کو دنیا بدلنی ہے تو پہلے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’دماغ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے‘12 September, 2005 | نیٹ سائنس ’دماغ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے‘12 September, 2005 | نیٹ سائنس برڈ فلو ہمیں کیسے متاثر کرتا ہے؟23 March, 2006 | نیٹ سائنس برڈ فلو ہمیں کیسے متاثر کرتا ہے؟23 March, 2006 | نیٹ سائنس اوزون کا شگاف بڑھ نہیں رہا23 August, 2006 | نیٹ سائنس اوزون کا شگاف بڑھ نہیں رہا23 August, 2006 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||