BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 January, 2007, 05:45 GMT 10:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رحم کے خلیوں سے بیماریوں کا علاج
انسانی جنین
برطانوی سائنسدانوں نے نئے طریقہ کار کی عملی کامیابی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سٹیم سیل (جانداروں میں بنیادی یا خام خلیہ) کا ایک نیا ذریعہ دریافت کر لیا ہے، جو ایک دن متاثرہ انسانی اعضاء کو درست کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے پہلے رحمِ مادر میں بچے کو لپیٹ میں لیے ہوئے سیّال مادے سے خلیوں کو حاصل کیا اور پھر انہیں لیبارٹری میں پروان چڑھایا۔

کارآمد بنیادی خلیوں کو اس سے قبل خاص طور پر تیار کیے گئے انسانی جنین (بچہ بننے کا ابتدائی مرحلہ) سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس طریقہ کار پر کافی تنقید کی جاتی ہے، کیونکہ بنیادی خلیے حاصل کرنے کے عمل میں انسانی جنین ضائع ہو جاتا ہے۔

اس طریقہ کار پر تنقید کرنے والے اسے ’آدم خوری‘ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ لیکن طریقہ کار کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ذیابیطس، پارکنسن اور الزائمر جیسے امراض کے علاج میں مدد ملے گی۔

 رحم مادر میں بچے کے گرد لپٹا سیال مادہ خلیوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سے بہت سے بڑھتے ہوئے جنین سے حاصل ہوتے ہیں

نئے طریقہ کار کے بارے میں امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے حاصلکردہ خلیوں میں بڑھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر بیماریوں کا علاج کیا جا سکے گا۔

تاہم اسی موضوع پر تحقیق کرنے والے برطانوی سائنسدانوں نے نئے طریقہ کار کے عملی طور پر کامیاب ہونے پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی عورتوں کے رحم مادر سے خلیوں کو حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔

رحم مادر میں بچے کے گرد لپٹا سیال مادہ خلیوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سے بہت سے بڑھتے ہوئے جنین سے حاصل ہوتے ہیں۔

امریکہ علاقے ٹیکساس کی ’ویک فارسٹ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن‘ سے تعلق رکھنے والی سائنسدانوں کی ٹیم نے دوران حمل ٹیسٹ کرانے والی خواتین سے حاصل کردہ سیال مادے کے نمونوں کو لیبارٹری میں پروان چڑھایا تو انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ان میں کئی طرح کے خلیے بننے کی صلاحیت ہے۔

اس کے بعد انہوں نے مزید تجربات کے لیے ان خلیوں کو ایک چوہیا میں داخل (ٹرانسپلانٹ) کیا اور دیکھا کہ ان خلیوں نے دماغ اور جگر میں اہم کیمیائی مادے پیدا کیے ہیں۔

ان تجربات سے سائنسدانوں نے نتیجہ نکالا کہ رحم مادر کے سیال مادے سے حاصلکردہ خلیوں میں مخلتف قسم کے خلیے بننے کی صلاحیت ہے جس کی مدد سے علاج میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے، خاص طور پر اس بچے کے لیے جس کی ماں کے رحم سے یہ خلیے حاصل کیے گئے تھے۔

برطانیہ کی ’نیوکاسل یونیورسٹی‘ کے پروفیسر کولن میکگوکن نے نئی تحقیق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ رحم مادر سے مطلوبہ خلیوں کا حصول اس صورت میں ہی ہو سکے گا کہ اگر بچے کی پیدائش قدرتی عمل کی بجائے آپریشن کے ذریعے ہو۔ ’لیکن یہ طریقہ بچہ پیدا کرنے کے قدرتی عمل کے تجربے سے محروم کر سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں
ہڈی کے گودے سے شوگر کا علاج
12 November, 2006 | نیٹ سائنس
سیل ٹرانسپلانٹ سے بینائی واپس
09 November, 2006 | نیٹ سائنس
سٹم سیلز کی تحقیق کا معرکہ
20 May, 2005 | نیٹ سائنس
امریکی انتخابات سائنسی موڑ پر
17 October, 2004 | نیٹ سائنس
چربی سے امراضِ دل کا اعلاج
07 March, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد