مصنوعی گوشت بنانے کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نئی تکنیک تجویز کی ہے جس سے تجربہ گاہ میں گوشت تیار ہو سکےگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریشوں کی سائنس میں پیش رفت کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جانوروں کے خلیوں کو تجربہ گاہ میں گوشت میں تبدیل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک خلیے سے پوری دنیا کی سالانہ ضرورت کے مطابق گوشت تیار کیا جا سکتا ہے۔ مارین کا کہنا ہے کہ مصنوعی گوشت کی تیاری سے لاکھوں جانور پالنے اور ان کو تنگ جگہوں پر رکھنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ ریشوں کو پہلی بار طبی مقاصد کے لیے مصنوعی طور پر تیار کیا گیا تھا۔ امریکی خلائی ادارہ ناسا بھی مچھلی کے ریشے تیار کر چکا ہے۔ مصنوعی گوشت کی تیاری سبزی خوروں کو بھی مخمصے میں ڈال دے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے وہ ایسا گوشت کھانے پر تیار ہو جائیں گے جو کسی جانور کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||