ہندوستانی آلو: گوشت کی توانائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنس دانوں نے ایک ایسے نئی قسم کے آلو کی تخلیق کی ہےجس میں عام سبزیوں سے زیادہ غذائیت اور پروٹین یعنی لحمیات پائے جاتے ہیں۔ ٹماٹر کی بھی ایک ایسی جنس تیار کی جارہی ہے جس کے کھانے سے پتھری کی شکایت نہیں ہوگی۔ جواہرلعل یونیورسٹی میں شعبہ پلانٹ اور جینم ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر آسیس دتہ نے اس نئے آلو کی تخلیق کی ہے۔ اس کا نام ہے پروٹیٹو یعنی پروٹین والا آلو ہے اور اس میں عام آلو سے تقریبا چالیس فیصد زیادہ پروٹین ہے۔ ڈاکٹر دتہ کا کہنا تھا کہ غربت کے سبب ملک کی ایک بڑی آبادی کو پوری غذا نہیں ملتی ہے۔ مہنگائی کے سبب بہت سے لوگ دودھ اور گوشت خرید نہیں سکتے ۔اسی لیے ایک ایسی سبزی کی تخلیق کا خیال ذہن میں آیا جس میں پروٹین زیادہ ہو اور سستی بھی ہو۔ آسیس دتہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریبا پندرہ برس کی محنت کے بعد نئے آلو کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ’ہم نے جس آلو کی فصل تیار کی ہے اس میں لحمیات زیادہ ہیں۔ اس میں بڑی حکمت سے ایک خصوصی پودے کے اجزاۓ ترکیبی شامل کیے گیے ہیں۔ نئے آلو کی افزائیش کے بعد تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ پروٹین کی حیثیت سے اسکی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ مسٹر دتہ کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ نئے آلوکی کھیتی مہنگی ہوگی۔ انہوں بتایا کہ ابتداء میں اسکی تحقیقات پر زیادہ خرچ آیا ہے۔ لیکن اسکی افزائش میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پروٹیٹو کی زراعت اسی طرح آسان ہے جیسے ایک عام الوکی۔ سارے تجربات مکمل ہونے کے بعد یہ مہنگا بھی نہیں ہوگا۔ اسکی پیداوار بھی خوب ہوگی۔ غذائیت اور پروٹین کی نوعیت سے عام آدمی کے لیے یہ بہت فائدے مند ہے۔ لیکن تجارتی نکتہ نظر سے کسانوں کے لیے بھی مفید ہے۔ ڈاکٹر دتہ کا کہنا تھا کہ نیا آلو ٹیسٹ کے تقریبا سبھی مرحلوں سے گزرچکا ہے اور اس میں کوئی بھی منفی پہلو نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بیرونی ممالک سے انہیں اس طرح کی پیش کش ملی تھیں کہ انکے ساتھ مل کر کام کیا جاۓ۔ لیکن انہوں نے اپنی خصوصی ٹیم کے ساتھ مل کر یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ ڈاکٹر دتہ نے لیبارٹری کے پاس بوۓ آلو کو دکھاتے ہوۓ کہا کہ جلد ہی یہ کسانوں تک پہنچ جائیگا۔ نئے مشن کے طور پر مسٹر دتہ ایک ایسے ٹماٹر کی تخلیق میں مصرف ہیں جس کے کھانے سے گردے میں پتھری کی شکایت نہیں ہوگی۔ ٹماٹر کی نئی قسم بھی تیار ہے لیکن اسے ابھی جانچ کے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ مسٹر دتہ نے بتایا کہ ٹماٹر میں کچھ ایسے زہریلے مادے ہوتے ہیں جس سے پیٹ میں پتھری کی شکایت پڑ جاتی ہے۔ بڑی محنت کے بعد ان مادوں کو الگ کرکے نیۓ ٹماٹر کی افزائش کی گئی ہے۔ اس کی بھی فصل تیار ہے۔ لیکن ابھی اسے ٹیسٹ کے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ زرعی شعبے کے کئی اداروں اور تنظیموں نے اس نئی دریافت کو خوب سراہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برصغیر میں عام آدمی کی زندگی چاول اور دال کی پروٹین پر منحصر ہے اور وہ بھی صحیح سے میسر نہیں ہے۔لیکن اس نئی دریافت سے غذائی کمی کو پورا کرنے میں مددملےگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||