انسان کا جدِامجد دریافت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے نہ صرف انسان بلکہ بن مانس اور گوریلے کے جدِ امجد کی باقیات کا پتہ چلایا لیا ہے۔ ایک کروڑ تیس لاکھ سال پرانے اس ڈھانچے کو سائنسدانوں نے سپین کے شہر بارسلونا کے نزدیک ایک کھدائی کے دوران دریافت کیا۔اس دریافت کو انسان کی ارتقاء کی کہانی کے گمشدہ باب کی دریافت سمجھا جا رہا ہے۔ تحقیق دانوں کے مطابق یہ ڈھانچہ ایک نر کا ہے جو کہ پھل کھاتا تھا اور جسامت میں بن مانس سے تھوڑا چھوٹا تھا۔ قدیم دور کی حیاتیات پر تحقیق کرنے والوں نے بارسلونا کے نواح میں کھدائی شروع ہے کی تھی جب انہیں اس ڈھانچے کا ایک دانت ملا۔ مزید کھدائی سے بارسلونا کے فوسلز(fossil) پرتحقیق کرنے والے ادارے کے سلواڈور مویا - سولا اور ان کے ساتھیوں نے مزید کھدائی کے بعد اس ڈھانچے کی کھوپڑی ، پسلیاں، ریڑھ کی ہڈی ، ہاتھ ، پاؤں اور دوسری ہڈیاں برآمد کیں۔ انہوں نے اس ڈھانچے کا تعلق ایک بالکل نئے خاندان سے جوڑا ہے جسے پائرولی پیتھیکس کیٹالایونیکس(Pierplapithecus catalaunicus) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 11 سے 16 ملین سال پہلے بڑے گوریلے جینیاتی بنیادوں پر چھوٹے گوریلوں سے الگ ہو گئے تھے۔ سائنسدانوں نے بڑے اور چھوٹے گوریلوں کے ادوار کے درمیان موجود خلا کو اس پائرولی پیتھیکس نامی خاندان کی مدد سے پر کیا ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ مخلوق چھوٹے گوریلوں کے زمانے کے بعد اور بڑے گوریلوں کی چمپینزی، گوریلے اور انسان میں تقسیم سے قبل موجود تھی۔ پروفیسر سلواڈور کے مطابق پائرولی پیتھیکس بڑے گوریلے اور انسان کے آباء میں سے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||