 | | | ’اِنڈیور‘ بدھ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سنٹر سے روانہ ہوا |
امریکہ کی خلائی شٹل ’اِنڈیور‘ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے لیے اپنے چودہ روزہ مشن پر روانہ ہوگئی ہے۔ مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام چھ بجکر چھتیس منٹ پر اِنڈیور فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سنٹر سے روانہ ہوئی۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کا یہ اس سال کا دوسرا مشن ہے۔ ناسا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کی تعمیر پر 100 بلین ڈالر صرف کر رہا ہے۔ اس سال دو اور مشن بھیجے جانے والے ہیں۔ انڈیور پر ایک سابق ٹیچر باربرا مورگن بھی ہیں جو سن 1986 میں چیلنجر شٹل پر ایک متبادل خلاباز کے طور پر جانے کو تیار تھیں۔ باربرا مورگن کے خلائی سفر کا اعلان اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن نے کیا تھا۔ چیلنجر فضا میں اڑتے ہی خلابازوں سمیت تباہ ہوگئی تھی، تاہم پچپن سالہ باربرا مورگن نے خلائی سفر کا اپنا خواب ترک نہیں کیا۔ بدھ کی شام اِنڈیور کے سفر کا آغاز اچھا رہا۔ اس خلائی طیارے میں کچھ ایسے آلات ہیں جن کی مدد سے یہ اپنے گیارہ روزہ مشن کو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے پاور گرِڈ سے بجلی حاصل کر کے چودہ دن تک بڑھا سکتا ہے۔ اس خلائی طیارے پر موجود خلاباز انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں مرمتی کام کرینگے۔ مرمت کا کام کرنے کے لیے خلابازوں کو خلا میں ساڑھے چھ گھنٹے کی چھ چہل قدمیاں کرنی ہونگیں۔ اس مشن پر موجود سابق ٹیچر باربرہ مورگن ناسا کے ایک تعلیمی مشن کے تحت انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے وڈیو لِنک کے ذریعے امریکہ کے متعدد اسکولوں کے طلباء سے بات کریں گیں۔
|