سات ہزار سات سو کلومیٹر فی گھنٹہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا خلائی ادارہ ناسا نے ’ایکس 43 اے‘ نامی نئے ’ہائپر سانک‘ جہاز کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا ہے۔ ناسا نے بتایا کہ جہاز نے دس سیکنڈ تک سات ہزار سات سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی۔ تجربے سے پہلے کہا گیا تھا کہ ہوا باز کے بغیر پرواز کرنے والا یہ جہاز جس کی لمبائی تین عشاریہ سات میٹر ہے آٹھ ہزار کلو میٹر یا پانچ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو آواز کی رفتار سے سات گنا زیادہ رفتار ہے۔ اس جہاز کا جیٹ انجن ہائڈروجن گیس سے چلتا ہے اور ہائڈروجن گیس کے ساتھ استعمال ہونے والی آکسیجن گیس فضا سے حاصل کرے گا جو انتہائی تیز رفتار سے انجن میں داخل ہوگی۔ امید کی جارہی ہے کہ اگر اس نئی ٹیکنالوجی کا استعمال لمبے فاصلے تک پرواز کرنے والے مسافر بردار جہازوں میں کیا گیا تو ایندھن کے اخراجات بہت کم ہوجائیں گے۔ اس سے پہلے اس جہاز کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے جس میں جہاز حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ یہ تجربہ جنوبی کیلی فورنیا کے ساحل پر موجود ایک امریکی بحری اڈے پر کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||