BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 23:35 GMT 04:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاروں کے جال سے آزاد ٹکنالوجی
بغیر تاروں کے سات فٹ کے فاصلے سے روشن کیا گیا بلب
اس عمل کو وائٹریسٹی کہا جاتا ہے
آج کے جدید الیکٹرانک سازوسامان کو تاروں کے جال سے آزاد کرنے کا تصور حقیقت کے نزدیک ہوتا نظر آرہا ہے۔

امریکی تحقیق کاروں نے ایک کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے کے تحت ساٹھ واٹ کے ایک بلب کو بغیر کوئی تار لگائے سات فٹ کی دوری سے جلایا گیا۔

سائنس نام کے جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے تحقیق کاروں نے 2006 میں بھی اس تھیوری پر روشنی ڈالی تھی لیکن پہلی مرتبہ انہوں نے اس کا باقاعدہ تجربہ کر کے دکھایا۔

تجربہ کرنے والی ٹیم کے رکن اسسٹنٹ پروفیسرمرین سولجاکک نے کہا ’ہمیں اپنی تھیوری پر مکمل یقین تھا اور ہمارا تجربہ ہمارے یقین کی طرح کامیاب رہا۔

اس عمل کو وائٹریسٹی کہا جاتا ہے تجربے میں 60 سینٹی میٹر کے ڈائمیٹر والے دو کوائل اور ایک ٹرانسمیٹر لیا گیا جس کو پاور کے سورس سے لگا دیا گیا اور ایک رسیور کو بلب کے ساتھ سات فٹ کی دوری پر نصب کر دیا گیا۔ٹرانسمیٹر میں پاور چلانے سے سات فٹ کی دوری پر لگایا گیا بلب روشن ہو اٹھا۔

اس تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اتنے فاصلے میں توانائی کی منتقلی ممکن ہے ۔ تجربے کے دوران دونوں کوائلز کے درمیان سامان رکھنے کے باوجود بھی بلب جل اٹھا۔

پروفیسرمرین سولجاکک
پروفیسرمرین سولجاکک اور ان کی ٹیم اب سسٹم کو بہتر بنانے کا کام کریں گے

پروفیسرمرین سولجاکک نے بتایا کہ جب کسی چیز پر ایک مخصوص فریکوئنسی کی توانائی کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس چیز میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور یہ طریقِ عمل اسی ارتعاش سے کام لیتا ہے۔

جب دو چیزوں میں یکساں ارتعاش پیدا ہوگی تو وہ آپس میں توانائی کا تبادلہ کر سکیں گی اور ارد گرد کی دوسری چیزوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

پروفیسرمرین سولجاکک اور ان کی ٹیم اپنے اس سسٹم کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ابتدائی نظام ہے جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ توانائی کی منتقلی ممکن ہے انہوں نے کہا ’ آپ اس کو اپنے لیپ ٹاپ کے لیے تو استعمال نہیں کریں گے‘۔

اب اس ٹیم کا مقصد ان تمام چیزوں کے سائز کو کم کرنا ، توانائی کی منتقلی کے فاصلے کو سات فٹ سے کہیں زیادہ بڑھانا اور اس کی کارگردگی کو بہتر بنانا ہے۔

اسی بارے میں
مریخ پر طوفان، تحقیق میں رکاوٹ
16 December, 2003 | نیٹ سائنس
سورج رفتہ رفتہ ’بجھ ‘ رہا ہے
14 January, 2005 | نیٹ سائنس
سورج کےگرد ’موسیقی‘
21 April, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد