امریکہ پر کمپیوٹر حملے کی مشقیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں توانائی کے مراکز اور بینکاری کے نظام سمیت اہم تنصیبات کی دفاعی صلاحیت کو آزمایا گیا ہے۔ ایک ہفتہ پر مشتمل اس سکیورٹی مشق کے دوران ان تنصیبات پر کمپیوٹر کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ امریکہ کے داخلی سلامتی کے ادارے کے مطابق ’سائبر سٹورم‘ نامی اس جنگی مشق میں ایف بی آئی، سی آئی اے اور ریڈ کراس سمیت ایک سو پندرہ مختلف ایجنسیوں نے حصہ لیا۔ ان کمپیوٹر حملوں کا جواب دینے کے عمل میں آئی ٹی کمپنیوں اور کئی دوسرے ملکوں کی حکومتوں میں بھی کردار ادا کیا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان مشقوں نے سائبر سکیورٹی بڑھانے کا ایک بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے۔ داخلی سلامتی کے ادارے کے ترجمان جارج فورسمین نے ایک بیان میں کہا کہ ’سائبر سکیورٹی ہماری قوم کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے بہت اہم ہے‘۔ امریکہ میں حکومت پر الزام ہے کہ وہ سائبر حملے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔ اس مشق کے دوران ’ہیکرز‘ اور ’بلوگرز‘ دونوں سے بچاؤ کے لیے مشقیں کی گئیں جس سے کمپیوٹر میں وائرس کے آنے اور غلط اطلاعات پھیلنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔ یہ مشقیں واشنگٹن میں خفیہ ادارے کے دفتر کے تہہ خانے کے کمپیوٹروں پر کی گئیں۔ ان مشقوں کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ یہ ٹیسٹ فرضی حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین ہے۔ اس سے پہلے نیو یارک کے ایک سب وے میں گیس حملے کا بھی تجربہ کیا گیا۔ |
اسی بارے میں ’تخریب کار وائرس سے ہوشیار رہیں‘30 January, 2006 | نیٹ سائنس پی سی وائرس کے بیس سال23 January, 2006 | نیٹ سائنس ایف بی آئی کا جعلی وائرس24 November, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||